’لکھنؤ دورے سے کچھ نہیں بدلے گا‘، بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کے 2 روزہ لکھنؤ دورے پر اکھلیش یادو کا ردعمل

اکھلیش یادو نے نتن نوین کے ’چائے کے پروگرام‘ پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’جب کسی کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا ہے تو وہ چائے پینے چلا جاتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>
i

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے قومی صدر نتن نوین کے 2 روزہ لکھنؤ دورے پر کہا کہ بی جے پی میں حکومت اور تنظیم کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال ہے۔ انہوں نے نتن نوین کے ’چائے کے پروگرام‘ پر طنز کستے ہوئے کہا کہ جب کسی کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا ہے تو وہ چائے پینے چلا جاتا ہے۔

لکھنؤ واقع سماجوادی پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’بی جے پی صدر کے دورے کے دوران ایسا ماحول بنا، گویا حکومت اور تنظیم کے درمیان تصادم چل رہا ہو۔‘‘ انہوں نے طنز کستے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’جب ہمیں بھی کوئی کام نہیں ہوتا، تو ہم بھی چائے پینے چلے جاتے ہیں۔‘‘ اکھلیش یادو کا یہ بیان بی جے پی صدر کے لکھنؤ قیام کے دوران پارٹی لیڈران کے ساتھ ایک مشہور چائے کی دکان پر پہنچنے کے تناظر میں آیا۔


یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے رام مندر میں مبینہ عطیات چوری کے معاملے کو سنگین بتاتے ہوئے کہا کہ اس کا نوٹس ملک و دنیا کے رام بھکتوں اور عدلیہ کو لینا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت کے پاس اپنی کامیابیاں بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس لیے عقیدت سے جڑے معاملات بھی تنازعات کی زد میں آ رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’ڈبل انجن‘ حکومت کے اندر ٹکراؤ کی سی صورتحال ہے اور اقتدار کے مراکز میں رسہ کشی صاف دکھائی دے رہی ہے۔

اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ سماجوادی پارٹی کی حکومت کے دوران شروع کیے گئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح آج بھی موجودہ حکومت کر رہی ہے۔ انہوں نے چک گنجریا واقع تربیتی ادارے، ہردوئی میں مشروبات کے پلانٹ اور کینسر انسٹی ٹیوٹ جیسے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بنیاد سماجوادی پارٹی کی حکومت نے رکھی تھی، جبکہ موجودہ حکومت کئی منصوبوں کو وقت پر مکمل نہیں کر سکی۔


اکھلیش یادو نے انتخابی تیاریوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی گریجویٹ اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں میں ووٹرس کی تعداد بڑھانے کے لیے مہم چلائے گی۔ تنظیم کو بوتھ کی سطح تک مضبوط کرنے، رکنیت سازی کی مہم کو تیز کرنے اور آنے والے انتخاب کی حکمت عملی پر عہدیداروں کے ساتھ تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مبینہ طور پر جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی وارننگ بھی دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے چین کے معاملے پر حکومت کو گھیرا اور کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق موضوعات پر مرکز کو واضح جواب دینا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔