نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 15 جون 2026 سے ہوگا پروازوں کا آغاز
نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 15 جون 2026 سے مسافر پروازیں شروع ہوں گی۔ تمام سکیورٹی منظوری مل چکی ہے اور ابتدائی پرواز انڈیگو چلائے گی، جس سے این سی آر کی فضائی رابطہ کاری کو نئی سمت ملے گی

نوئیڈا: قومی راجدھانی خطہ کے لیے ایک اہم اور طویل عرصے سے منتظر پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ یہاں سے عام مسافروں کے لیے تجارتی پروازوں کا باقاعدہ آغاز 15 جون 2026 سے کیا جائے گا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی یہ ایئرپورٹ ملک اور بیرون ملک کے درمیان ایک نئے فضائی دروازے کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق یکم مئی کو جاری کردہ معلومات میں بتایا گیا کہ تمام ضروری حفاظتی اور عملیاتی تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ بیورو آف سول ایوی ایشن سکیورٹی کی جانب سے ایروڈروم سکیورٹی پروگرام کو بھی منظوری حاصل ہو چکی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایئرپورٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل طور پر تیار ہے اور یہاں مسافروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
اس ایئرپورٹ سے پہلی پرواز انڈیگو کے ذریعے چلائی جائے گی، جو مسافر خدمات کے باضابطہ آغاز کی علامت ہوگی۔ اس کے بعد دیگر بڑی فضائی کمپنیوں، جن میں اکاسا ایئر اور ایئر انڈیا شامل ہیں، کی جانب سے بھی اپنی خدمات شروع کرنے کی توقع ہے۔ تاہم پروازوں کے راستوں، اوقات کار اور ٹکٹ بکنگ سے متعلق تفصیلی اعلان جلد کیا جائے گا۔
نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جدید بنیادی ڈھانچے، تیز رفتار نظام اور بہتر رابطہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ یہاں مسافروں کو آرام دہ اور سہل سفری تجربہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فضائی کمپنیوں کو کم لاگت اور قابل اعتماد آپریشن کی سہولت بھی میسر ہوگی۔ اس منصوبے کو خاص طور پر اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ مستقبل کی ضروریات کو بھی پورا کر سکے۔
یہ ایئرپورٹ یمنا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے، جو زیورخ ایئرپورٹ انٹرنیشنل کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ اس منصوبے کو عوامی و نجی شراکت داری ماڈل کے تحت اتر پردیش حکومت اور مرکزی حکومت کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ ایئرپورٹ کے پہلے مرحلے میں سالانہ تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے، جبکہ مستقبل میں اس کی توسیع کر کے اسے سات کروڑ سالانہ مسافروں تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ایئرپورٹ کے آغاز سے نہ صرف این سی آر کی فضائی رابطہ کاری مضبوط ہوگی بلکہ سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی اتر پردیش اور قریبی علاقوں کی معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو خطے کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔