گراہم اسٹینس اور بیٹوں کے قتل کے مجرم دارا سنگھ کو راحت سے عدالت کا انکار، قبل از وقت رہائی کی اپیل مسترد

اوڈیشہ کے اسٹیٹ سینٹنس ریویو بورڈ نے گراہم اسٹینس اور ان کے دو بیٹوں کے قتل کے مجرم دارا سنگھ کی قبل از وقت رہائی کی اپیل مسترد کر دی۔ بورڈ نے فرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا

<div class="paragraphs"><p>اپنے اہل خانہ کے ساتھ گراہم اسٹینس اور دارا سنگھ / تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

بھونیشور: اوڈیشہ حکومت کے اسٹیٹ سینٹنس ریویو بورڈ نے آسٹریلوی عیسائی مشنری گراہم اسٹینس اور ان کے دو کم عمر بیٹوں کے قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے دارا سنگھ کی قبل از وقت رہائی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ بورڈ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موجودہ حالات میں دارا سنگھ کی سزا مکمل ہونے سے پہلے رہائی سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

دارا سنگھ کی اپیل پر سپریم کورٹ میں اگلی سماعت جمعرات کو ہونے والی ہے۔ اس سے قبل 31 اگست کو ہونے والے اجلاس میں ریاستی سزا نظرثانی بورڈ نے دارا سنگھ کی اپیل پر غور کیا۔ بورڈ نے اپنے فیصلے میں کیونجھڑ جیل حکام کی 28 اگست کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔

رپورٹ کے مطابق 15 اگست کو ’دارا سینا‘ سے وابستہ تقریباً 200 سے 250 افراد نے کیونجھڑ جیل کے باہر دارا سنگھ کی رہائی کے مطالبے کو لے کر احتجاج کیا تھا۔ اس دوران اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ نعرے بھی لگائے گئے تھے۔ بورڈ نے اگرچہ واضح کیا کہ جیل حکام نے اپنی رپورٹ میں دارا سنگھ کی رہائی کے بارے میں کوئی واضح سفارش یا تجویز پیش نہیں کی تھی، تاہم احتجاج اور اس کے دوران لگائے گئے نعروں کو مدنظر رکھتے ہوئے بورڈ نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہ دارا سنگھ کو سزا پوری ہونے سے پہلے رہا کرنے کے حق میں نہیں ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے جب دارا سنگھ کی قبل از وقت رہائی کی درخواست مسترد ہوئی ہو۔ بورڈ 2016، 2019، 2020، 2022 اور 2023 میں بھی اسی طرح کی درخواستیں مسترد کر چکا ہے۔


کیا ہے گراہم اسٹینس قتل معاملہ؟

اوڈیشہ کے کیونجھڑ ضلع کے منوہرپور میں 22 جنوری 1999 کو گراہم اسٹینس اپنے دو بیٹوں، فلپ اور ٹموتھی کے ساتھ ایک جیپ میں سو رہے تھے۔ الزام ہے کہ دارا سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے جیپ کو آگ لگا دی۔ اس واقعے میں گراہم اسٹینس اور ان کے دونوں کم عمر بیٹوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی۔

سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 2003 میں دارا سنگھ کو تینوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جبکہ دیگر 12 ملزمان کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

2005 میں اوڈیشہ ہائی کورٹ نے دارا سنگھ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ عدالت نے ثبوت ناکافی ہونے کی بنیاد پر دیگر 11 ملزمان کو بری بھی کر دیا تھا۔ اس معاملے میں دارا سنگھ کے ساتھ عمر قید کی سزا کاٹ رہے شریک ملزم مہندر ہیمنبرم کو 2025 میں قبل از وقت رہا کر دیا گیا تھا۔