آج جو مسجدیں شہید کی جا رہی ہیں وہ پھر آباد ہوں گی اور وہاں دوبارہ اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی: ارشد مدنی
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اسلام کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی اور شہید کی جانے والی مساجد ایک دن دوبارہ آباد ہوں گی۔ انہوں نے مسلمانوں سے صبر، اتحاد اور ثابت قدمی کی اپیل کی

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ آج جن مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے، ان شاء اللہ ایک دن وہ دوبارہ آباد ہوں گی اور وہاں پھر سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ اقتدار میں ہیں، وہ کل نہیں رہیں گے، کیونکہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن اسلام کو دنیا کی کوئی طاقت نہ ماضی میں مٹا سکی ہے اور نہ مستقبل میں مٹا سکے گی۔
مولانا ارشد مدنی نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے کی حکومتیں مسلمانوں کو نشانہ بناتی تھیں، لیکن موجودہ حکومت مسلمانوں کے ساتھ اسلام، ان کی مذہبی شناخت اور مذہبی اداروں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے فرقہ وارانہ طاقتوں کو سوویت یونین کے انجام سے سبق لینے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کو مٹانے کا خواب دیکھنے والے خود تاریخ کا حصہ بن گئے، لیکن اسلام آج بھی زندہ ہے۔ ان کے مطابق، اقتدار اور حکومتیں مستقل نہیں ہوتیں، اس لیے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو مایوس ہونے کے بجائے اپنے مذہب اور ایمان پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
مولانا ارشد مدنی نے اسلامی مدارس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مدارسِ اسلامیہ دین اور ایمان کے محافظ اور مسلمانوں کی مذہبی شناخت کے امین ہیں۔ تاہم، نئی نسل کے ایمان، عقیدے اور اخلاق کی حفاظت صرف مدارس کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ والدین کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔
انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات سے مایوس نہ ہوں، بلکہ صبر، اتحاد، حکمت اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے دین اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مولانا ارشد مدنی نے 5 ستمبر کو سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع تاریخی مسجد کو گرائے جانے کے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس کارروائی کو آئین، قانون کی حکمرانی اور یکساں انصاف کے اصولوں کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرنے والا قدم قرار دیا تھا۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا تھا کہ تاریخی مسجد کو گرایا جانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ ان کے مطابق، اس واقعے نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ اگر آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہیں تو ان کے نفاذ میں دوہرا معیار کیوں نظر آتا ہے؟ ان کے تازہ بیان میں مساجد کے دوبارہ آباد ہونے کی امید کے ساتھ مسلمانوں کی مذہبی شناخت کے تحفظ، نئی نسل کی تربیت اور موجودہ حالات میں صبر و اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
