ممبئی مونسپل اسکولوں میں بھگوت گیتا نہیں تو کیا فتاوی عالمگیری "پڑھائی جائے: نتیش رانے کی زہر افشانی

آئندہ چند ماہ میں ممبئ مونسپل کارپوریشن کے انتخابات عمل میں آنے والے ہیں اور بی جے پی اس قسم کا مطالبہ کر کے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

بی جے پی ایم ایل اے نتیش رانے نے ممبئ مونسپل کارپوریشن کی بی ایم سی اسکولوں میں بھگوت گیتا کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کے معاملے میں زہر افشانی کرتے ہوے سماج وادی پارٹی کی جانب سے اس ضمن میں کی جانے والی مخالفت کو بد قسمتی قرار دیا اور کہا کہ ان اسکولوں میں بھگوت گیتا نہں تو کیا ؟" فتاوی عالمگیری "پڑھائی جائے جس سے پڑھ کر ہر گھر میں ایک اور مختار انصاری کا جنم ہو-

واضح رہےکہ گزشہ دنوں بی جے پی کونسلر بھاونا گاولی نے کارپوریشن اجلاس کے دوران سے اس تعلق سے ایک تجوہز پیش کی تھی جو ایوان میں بحث کے لئے نہیں پہنچ سکی لیکن سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس کی بروقت مخالفت کرتے ہوے کمشنر کو ایک خط روانہ کرکے کہا تھا کہ اس سے قبل بھی اس قسم کے مطالبات کئے جا چکے ہیں نیز گزشتہ سال جب اسی مطالبے کو دوہرایا گیا تھا تب تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ کاپوریشن کی کاروائئ میں مستقبل میں کبھی مذہبی معاملات پر بحث نہیں کی جاے گی لہذا اس فیصلے کے پیش نظر اس مطالبے کو مسترد کیا جائے-


انہوں نے مزید کہا تھا کہ آئندہ چند ماہ میں ممبئ مونسپل کارپوریشن کے انتخابات عمل میں آنے والے ہیں اور بی جے پی اس قسم کا مطالبہ کر کے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور الکشن کو پولرائز کرنے کی سازش کا اس طرح کی مانگ ایک حصہ ہے۔

مرکزی وزیر نارائن رانے کے فرزند و رکن اسمبلی نتیش رانے نے اس تعلق سے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے اور سماج وادی پارٹی کی اس تجویز کی مخالفت کو 'بدقسمتی' قرار دیا اور کہا ہےکہ جس طرح سے ہندوستانی 'یوگا' کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور وہ پوری دنیا اس پر عمل پیرا ہے کیونکہ اس میں مذہب کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اسی طرح سے بھگوت گیتا بھی عالمی پلیٹ فارم پر توجہ کا مرکز بنی ہوئ ہے اور دنیا کی بیشتر یونیورسٹیاں اس پر تحقیقاتی مطالعہ کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں سے ایک ا سیٹن ہال یونیورسٹی میں ایک خصوصی انتظامی پروگرام ہے جس میں بھگوت گیتا کا مطالعہ نہ صرف نصاب میں شامل ہیں بلکہ اسکا مطالعہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔


نیتیش رانے نے اپنے خط میں مزید لکھا ہےکہ پوری دنیا بھگوت گیتا کی تعلیم کا مطالعہ کر رہی ہے اور کارپوریٹس بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں، کیونکہ یہ مقدس کتاب زندگی کا راستہ دکھاتی ہے،‘‘ انہوں نے وزیراعلی سے درخواست کی ہے کہ وہ بھگوت گیتا کو مونسپل اسکولوں کے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی تجویز کی مخالفت کرنے کے لیے چند لوگوں کی جانب سے بنائے گئے دباؤ کے آگے نہ جھکیں اور بی جے پی کارپوریٹر کے ذریعہ پیش کردہ نوٹس کو قبول کریں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔