این آئی اے عدالت نے 15 بنگلہ دیشی اور روہنگیائی قصورواروں کو سنائی 5-5 سال قید کی سزا

اے ٹی ایس نے عدالت کو بتایا کہ کئی بنگلہ دیشی اور روہنگیا کا فرضی دستاویزات کی بنیاد پر پاسپورٹ تک بنوایا گیا ہے، جنہیں انسانی اسمگلنگ کے ذریعہ کئی ممالک میں بھیجا بھی گیا ہے۔

عدالت، علامتی تصویر
i

ہندوستان میں غیر قانونی طریقے سے دراندازی کرنے والے 15 لوگوں کو لکھنؤ کی خصوصی عدالت نے 5-5 سال کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں پر 10-10 ہزار روپے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ ان میں 13 بنگلہ دیشی اور 2 روہنگیائی شہری شامل ہیں۔ اے ٹی ایس نے 26 اکتوبر 2021 کو اس گروہ کے کئی اراکین کو گرفتار کیا تھا۔ جن لوگوں کو این آئی اے کورٹ نے سزا سنائی ہے ان میں محفوظ الرحمٰن، الامین احمد، کھوکھن سردار، علاء الدین، جمیل احمد، حسین محمد فہد، شخاوت خان، اسید الاسلام، زین الاسلام، راجیو حسین، مومن الاسلام، مہدی حسن، شان احمد، محمد جمیل اور نور امین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اترپردیش اے ٹی ایس کے ذریعہ سرحد پار اسمگلنگ کرنے والے نیٹورک کا پردہ فاش کیے جانے کے تقریباً 5 سال بعد این آئی اے عدالت کے جج اوماکانت جندل نے یہ فیصلہ سنایا۔ یہ تمام بنگلہ دیش سے آ کر مغربی بنگال میں چھپ کر رہ رہے تھے۔ سازش کے تحت متھن منڈل، وکرم سنگھ، محفوظ اور سمیر منڈل عرف ٹونی، محمد جمیل اور کچھ دیگر لوگ بنگلہ دیشی شہریوں کی ہندوستان میں دراندازی کرا رہے ہیں۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ لوگ ایک گروہ بنا کر بنگلہ دیش اور میانمار کے شہریوں کو غیرقانونی طور پر ہندوستان میں داخل کراتے ہیں۔ ان لوگوں کا فرضی ہندوستانی آدھار کارڈ، پین کارڈ اور پاسپورٹ تک بنوا رہے ہیں۔


اے ٹی ایس نے عدالت کو بتایا کہ کئی بنگلہ دیشی اور روہنگیا کا فرضی دستاویزات کی بنیاد پر پاسپورٹ تک بنوایا گیا ہے، جنہیں انسانی اسمگلنگ کے ذریعہ کئی ممالک میں بھیجا بھی گیا ہے۔ اکتوبر 2021 میں ان تمام کو مختلف جگہوں سے اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا۔ اے ٹی ایس نے تحقیقات مکمل کر تمام ملزمان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ اے ٹی ایس کو کافی دنوں سے اطلاع مل رہی تھی کہ ایک مجرمانہ سازش کے تحت متھن منڈل، وکرم سنگھ، محفوظ، سمیر منڈل عرف ٹونی، محمد جمیل اور دیگر کچھ بنگلہ دیشی لوگوں کی ہندوستان میں دراندازی کرا رہے ہیں۔ یہ لوگ ایک گروپ بنا کر بنگلہ دیش اور میانمار کے لوگوں کو غیرقانونی طور پر ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد میں داخل کرا کر ان کی شناخت بدل کر ہندوستانی شہری بنانے کے لیے ان کا فرضی آدھار کارڈ، پین کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوا رہے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔