’حفاظتی معیار کی خلاف ورزی کرنے والی بسوں کو ہٹائیں‘، ریاستوں کو این ایچ آر سی نے دیا حکم
سینٹرل روڈ ٹرانسپورٹ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق راجستھان میں حالیہ بس حادثے کی تحقیقات میں بس کے ڈیزائن میں خامیاں سامنے آئی ہیں، جن سے سینٹرل موٹر وہیکل رولز کے مقررہ حفاظتی معیارات کے خلاف ہیں

ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ خوفناک بس حادثات نے جہاں کئی لوگوں کی جان لے لی ہے وہیں عام مسافروں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات بھی کھڑے کر دئے ہیں اور بس میں سفر کرنے والے لوگ خوف زدہ ہیں۔ ان حالات میں قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ہفتہ کو تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی کرنے والی سلیپر کوچ بسوں کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ این ایچ آر سی کی اس بنچ کی سربراہی پریانک قانونگو کر رہے ہیں۔
بیچ میں ایک شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کے ڈیزائن میں خامیاں مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ شکایت کنندہ کی جانب سے بتایا گیا کہ کچھ بسوں میں ڈرائیور کا کیبن مسافروں سے بالکل الگ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہنگامی صورت حال میں وقت پر آگ کا پتہ لگانا اور اس کی اطلاع دینا مشکل ہوتا ہے۔
شکایت میں حالیہ ان واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جس میں مسافر بسوں میں دوران سفر آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں کئی لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے گاڑیوں کے مینوفیکچررز اور منظوری دینے والے افسران کی جانب سے نظامی غفلت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
شکایت میں حفاظتی ڈیزائن کو بہتر بنانے، جوابدہی طے کرنے اور متاثرہ اور ان کے خاندانوں کے لیے معاوضے کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کی مانگ کی گئی ہے۔ پریانک قانونگو کی سربراہی میں قومی انسانی حقوق کمیشن کی بنچ نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔
شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پریانک قانونگو نے سکریٹری، روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز، حکومت ہند اور سینٹرل روڈ ٹرانسپورٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں شکایت میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرنے اور دو ہفتوں کے اندر کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اس معاملے میں پہلے کمیشن کی ہدایت کے مطابق سینٹرل روڈ ٹرانسپورٹ انسٹی ٹیوٹ نے ایکشن رپورٹ پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راجستھان میں ہونے والے حادثے کی تحقیقات میں بس کے ڈیزائن میں خامیاں سامنے آئی ہیں جو سینٹرل موٹر وہیکل رولز (سی ایم وی آر) کے تحت مقررہ حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔