نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی کی وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اچانک ملاقات
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے غیر اعلانیہ ملاقات کی۔ رہائش منصوبوں اور امیگریشن کے معاملے پر بات چیت ہوئی، جبکہ کولمبیا یونیورسٹی کی طالبہ کی حراست اور رہائی بھی موضوع بنی

واشنگٹن: نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اچانک ملاقات کی۔ حالیہ مہینوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان نظریاتی اختلافات اور سیاسی کشیدگی کے باوجود یہ ملاقات غیر متوقع طور پر سامنے آئی۔ خاص بات یہ رہی کہ یہ نشست کسی عوامی پروگرام کا حصہ نہیں تھی اور اس کی پیشگی تشہیر بھی نہیں کی گئی تھی۔
ممدانی نے اس ملاقات کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نیویارک شہر میں زیادہ سے زیادہ رہائش گاہوں کی تعمیر کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق شہر کو درپیش رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی تعاون ناگزیر ہے۔ سٹی ہال کی ترجمان انا بہر نے بتایا کہ میئر نے ایسے منصوبے پیش کیے ہیں جن کے تحت چند بڑی اسکیموں میں گزشتہ پچاس برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم منصوبوں کے مقامات، دائرہ کار اور مالی وسائل کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
ملاقات کے دوران امیگریشن کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وائٹ ہاؤس سے باہر آنے کے بعد ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ انہوں نے گزشتہ ملاقات میں کولمبیا یونیورسٹی کی طالبہ الائینا اغایوا کی حراست پر تشویش ظاہر کی تھی، جنہیں اسی صبح امیگریشن حکام نے گرفتار کیا تھا۔ ممدانی کے مطابق انہیں آگاہ کیا گیا کہ طالبہ کو جلد رہا کر دیا جائے گا اور بعد ازاں ان کی رہائی عمل میں آ گئی۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح وفاقی اہلکار مین ہیٹن میں واقع کولمبیا یونیورسٹی کے ایک رہائشی ہاسٹل میں داخل ہوئے تھے۔ جامعہ کی قائم مقام صدر کلیئر شپمین نے کہا کہ اہلکاروں نے لاپتہ شخص کی تلاش کا جواز پیش کر کے عمارت میں رسائی حاصل کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس عمل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ غیر عوامی حصوں میں داخلے کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔
ادھر محکمہ داخلی سلامتی نے ایک بیان میں کہا کہ متعلقہ طالبہ کا ویزا 2016 میں کلاسوں میں غیر حاضری کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا اور ان کی کوئی زیر التوا اپیل موجود نہیں تھی۔
وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ نشست ڈیموکریٹک سوشلسٹ میئر اور ریپبلکن صدر کے درمیان بدلتے تعلقات کی عکاس ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نیویارک شہر وفاقی امداد اور امیگریشن پالیسی کے حوالے سے قومی بحث کے مرکز میں ہے۔