جنوری 2027 سے شہری ہوابازی شعبہ کے نئے اصول ہوں گے نافذ، 9 دہائی قدیم ضوابط میں ہوگی تبدیلی!

ایئرلائنز کو ٹکٹ کی مجموعی قیمت کے ساتھ اس کی مکمل تفصیل بھی دینی ہوگی، جس میں بنیادی کرایہ، ٹیکس، فیس، منسوخی کے چارجز اور رقم واپسی کی پالیسی کی معلومات واضح طور پر درج کرنا لازمی ہوگا۔

ہوائی جہاز، تصویر یو این آئی
i

مرکزی حکومت نے ملک کے شہری ہوابازی سیکٹر کے لیے ایک نیا اور جامع ضابطہ جاتی نظام تیار کیا ہے۔ شہری ہوابازی کی وزارت کے مطابق ’ہندوستانی ہوائی جہاز ضوابط، 2026‘ یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوں گے اور تقریباً 9 دہائیوں سے نافذ ’ہوائی جہاز ضوابط، 1937‘ کی جگہ لیں گے۔ نئے ضوابط میں ہوابازی کے شعبے کے تقریباً تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں ہوائی جہازوں کی رجسٹریشن، پرواز کے قابل ہونے کا سرٹیفکیٹ، ہوائی جہازوں کی تیاری، دیکھ بھال، پروازوں کے آپریشن، عملے کے لائسنس اور ہوائی اڈوں کے آپریشن سے متعلق تفصیلی دفعات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہوائی جہازوں کے مالکان، آپریٹرز، ایئرلائنز اور ہوابازی کے شعبہ سے وابستہ دیگر فریقوں کی ذمہ داریاں بھی واضح طور پر طے کی گئی ہیں۔

نئے نظام کے تحت ہوائی جہازوں کی رجسٹریشن اور ان کے پرواز کے قابل ہونے کے سرٹیفکیٹ سے متعلق ضوابط کی تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں یہ یقینی بنانے کے معیارات شامل ہیں کہ کوئی ہوائی جہاز پرواز کے لیے محفوظ اور موزوں ہے یا نہیں۔ ان ضوابط میں ہوائی جہاز کے ڈیزائن، تیاری کے معیارات، تبدیلیوں اور مرمت سے متعلق منظوریوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔


حکومت نے ہوائی جہازوں کی پوری عملیاتی مدت کے دوران باقاعدہ معائنے اور دیکھ بھال کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایئرلائنز اور ہوائی جہاز چلانے والوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہوائی جہاز مسلسل حفاظتی معیارات پر پورا اتریں اور پرواز کے قابل رہیں۔ نئے ضوابط میں پائلٹوں، ہوائی جہازوں کی دیکھ بھال کرنے والے انجینئروں اور ایئر ٹریفک کنٹرولروں سمیت ہوابازی کے شعبہ کے مختلف پیشہ ور افراد کے لیے اہلیت اور لائسنس کے معیارات بھی تفصیل سے طے کیے گئے ہیں۔ ان میں تربیت، امتحان، تجربے اور طبی صحت سے متعلق ضروریات کے علاوہ لائسنس کی تجدید، معطلی اور منسوخی کی شرائط بھی شامل ہیں۔

ایئرلائن آپریشن سے متعلق دفعات میں پرواز کی منصوبہ بندی، عملیاتی طریقۂ کار اور حفاظتی معیارات پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ پائلٹوں اور کیبن عملہ کے لیے پرواز کی ڈیوٹی اور آرام کے دورانیے سے متعلق ضوابط بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ تھکاوٹ سے وابستہ خطرات کم ہوں اور پروازوں کی حفاظت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ مسافروں کے لیے سب سے اہم تبدیلیوں میں ٹکٹوں کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت شامل ہے۔ اگلے سال سے ایئرلائنز کو ٹکٹ کی مجموعی قیمت کے ساتھ اس کی مکمل تفصیل بھی دینی ہوگی، جس میں بنیادی کرایہ، ٹیکس، فیس، منسوخی کے چارجز اور رقم واپسی کی پالیسی کی معلومات واضح طور پر درج کرنا لازمی ہوگا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایئرلائنز کے کرائے اب بھی شہری ہوابازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے) کی نگرانی کے دائرے میں رہیں گے۔ اس کے علاوہ نئے ضوابط میں ہوائی اڈوں کے لائسنس، بنیادی ڈھانچے کے معیارات اور عملیاتی ضروریات سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔