نیتا جی کے پڑپوتے چندر کمار بوس کا ٹی ایم سی سے استعفیٰ، 4 ماہ قبل ہی پارٹی میں ہوئے تھے شامل
نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتے چندر کمار بوس نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ترنمول کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اپریل 2026 میں بی جے پی چھوڑ کر ٹی ایم سی میں شامل ہوئے تھے

کولکاتا: نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتے چندر کمار بوس نے پیر کو ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ پارٹی میں شمولیت کے محض چار ماہ بعد کیا ہے۔ بوس نے اپریل 2026 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) چھوڑ کر ممتا بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی میں شمولیت اختیار کی تھی۔
چندر کمار بوس نے پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کو بھیجے گئے اپنے استعفیٰ نامے میں کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر فوری اثر سے پارٹی کی بنیادی رکنیت چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔
چندر کمار بوس 12 اپریل 2026 کو کولکاتا میں واقع ترنمول بھون میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران باضابطہ طور پر ٹی ایم سی میں شامل ہوئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے بی جے پی میں شمولیت کو اپنی ’غلطی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد سیاسی راستہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے دوران انہیں سماعت کے لیے طلب کیے جانے پر انہوں نے بی جے پی کی مرکزی قیادت پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے عظیم رہنما نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتے ہونے کے باوجود اگر ان کی شہریت پر سوال اٹھایا جا رہا ہے تو یہ حیران کن اور افسوسناک بات ہے۔
یاد رہے کہ ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ترنمول کانگریس اندرونی اختلافات کا شکار ہو گئی۔ پارٹی کے ایک بڑے دھڑے نے ریاستی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف رتبرت بنرجی کی قیادت والے باغی گروپ کا ساتھ دے دیا، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پارٹی کے اصل مگر اقلیتی دھڑے کی قیادت کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں چندر کمار بوس نے کسی بھی گروہ کا ساتھ دینے کے بجائے پارٹی سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جسے ریاست کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چندر کمار بوس 2016 میں ہاوڑہ میں منعقدہ ایک عوامی جلسے کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ بعد ازاں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے کولکاتا جنوبی حلقے سے بی جے پی کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا، تاہم انہیں ترنمول کانگریس کی امیدوار مالا رائے کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
2019 کے عام انتخابات کے بعد انہوں نے بی جے پی سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا، جبکہ 2021 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد وہ عملی سیاست سے تقریباً کنارہ کش رہے اور پارٹی کی سرگرمیوں میں بھی نمایاں طور پر نظر نہیں آئے۔ اب ٹی ایم سی سے استعفیٰ دے کر انہوں نے ایک بار پھر اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی کے بارے میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
