نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 362 تک پہنچی، مزید طغیانی کا خطرہ
نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں 362 تک پہنچ گئیں جبکہ 1500 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ بھوٹے کوشی میں مزید طغیانی کا خدشہ ہے، بھارت کے یوپی اور بہار میں بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے
نیپال میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہلاک ہونے والوں کی تعداد 362 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 1500 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں، تاہم کئی مقامات پر حالات اب بھی انتہائی مشکل بنے ہوئے ہیں۔
نیپال کے رسوا علاقے میں بھوٹے کوشی دریا میں آنے والے شدید سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ سیلاب کے باعث بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 35 پل اور 45 معلق پل بہہ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ 13 پن بجلی منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کئی گاڑیاں تیز پانی کے بہاؤ میں بہہ گئیں۔
نیپال کی فوج نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے 250 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ تاہم بڑی تعداد میں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق 290 ہندوستانی شہریوں سے فی الحال رابطہ نہیں ہو سکا ہے، جبکہ امدادی ٹیموں نے 84 ہندوستانی شہریوں کو محفوظ نکال لیا ہے۔ ان میں تریشولی-1 منصوبے میں پھنسے 63 کارکن اور تمل ناڈو کے 21 افراد شامل ہیں۔
دریں اثنا، مہاراشٹر کے کم از کم 114 سیاحوں کے بھی نیپال میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ اور اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق 53 سیاحوں کے ساگا مانسروور علاقے میں محفوظ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تقریباً 61 افراد ایک ٹریول ایجنسی کے ذریعے سفر پر گئے تھے، جبکہ دیگر ذاتی طور پر نیپال پہنچے تھے۔
صورتحال کے پیش نظر ہندوستان کے اتر پردیش اور بہار میں بھی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ گنڈک، ناراینی اور کوسی دریاؤں کے پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اتر پردیش کے مہاراج گنج اور کشی نگر سمیت بہار کے حساس علاقوں میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بہار کے چھ اضلاع میں بھی خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے۔
اس دوران نیپال میں ایک اور خطرہ بھی سامنے آیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق رسوا گڑھی سرحد سے تقریباً 18 کلومیٹر اوپر لینڈے دریا کا بہاؤ مکمل طور پر رک گیا ہے، جس کے نتیجے میں ساحلی علاقے میں تقریباً 0.11 مربع کلومیٹر رقبے پر ایک بڑی عارضی جھیل بن گئی ہے۔ نیپال حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قدرتی جھیل کا بند ٹوٹا تو نشیبی علاقوں میں اچانک شدید سیلاب آ سکتا ہے۔ مقامی آبادی اور متعلقہ حکام کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ نے بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال اب بھی چیلنجنگ ہے اور ریاستی انتظامیہ، سکیورٹی ادارے اور امدادی ٹیمیں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔
ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ سے فون پر بات کر کے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہندوستان کے عوام نیپال کے اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
