نیپال میں سیلاب کے 40 دن بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بند، حکومت نے تعمیر نو پر توجہ مرکوز کی

نیپال حکومت نے 26 اگست کے تباہ کن سیلاب کے 40 دن بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیلاب میں 1455 اموات کی تصدیق اور 5285 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

کھٹمنڈو: نیپال حکومت نے 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب کے 40 دن گزرنے کے بعد اب کسی زندہ شخص کے ملنے کی امید باقی نہیں رہی، اس لیے توجہ تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی پر مرکوز کی جائے گی۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق یہ فیصلہ ضلعی سکیورٹی کمیٹیوں، ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں اور نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کی سفارشات کے علاوہ زمینی صورتحال کے جائزے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں میں آنے والے شدید سیلاب نے دریاؤں کے کنارے واقع علاقوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔ سیلاب کے بعد سے مختلف علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری تھیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس قدرتی آفت میں اب تک 1,455 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 5,285 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔


حکومت نے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے بڑے مالی پیکیج کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ اجلاس میں وزارت خزانہ سے 559.18 ارب نیپالی روپے کے بجٹ کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ رقم 26 اگست کی تباہی اور مون سون سے متعلق دیگر آفات سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے 504 منصوبوں اور پروگراموں پر خرچ کی جائے گی۔

نیشنل پلاننگ کمیشن اور نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کی مشترکہ تکنیکی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ ’ریپڈ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ‘ رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب سے تقریباً 274.48 ارب نیپالی روپے کا براہ راست جسمانی نقصان ہوا ہے، جبکہ مجموعی نقصان کا تخمینہ 408.28 ارب نیپالی روپے لگایا گیا ہے۔

ابتدائی جائزے کے مطابق متاثرہ بنیادی ڈھانچے اور املاک کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے 723 ارب نیپالی روپے سے زیادہ درکار ہوں گے۔ حکومت اب نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ’پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ‘ پر بھی کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم بالیندر شاہ نے کہا کہ آفت سے نمٹنے کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان تال میل سے کام کیا گیا اور تعمیر نو و بحالی کا عمل بھی اسی تعاون کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔

حکومت نے سیلاب میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اجلاس میں سرچ، ریسکیو، امداد اور بحالی کے کاموں میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکاروں، منتخب نمائندوں، سرکاری افسران، نجی اداروں، رضاکاروں اور میڈیا کے ساتھ ساتھ مشکل وقت میں مدد فراہم کرنے والے ممالک اور ترقیاتی شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔