دھرو راٹھی اور آئسا کی نیہا بورا یکم نومبر کی ریلی میں شرکت کریں گے

نیہا بورا نے اپنے تین مطالبات کا اعلان کیا اور ملک کے لوگوں سے رام لیلا میدان میں انڈیا بلاک کی میگا ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

آئسا  کی قومی صدر نیہا بورا نے یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ہونے والی انڈیا بلاک کی ریلی کے لیے تین اہم مطالبات کا اعلان کیا ہے۔ اپنے تین بڑے مطالبات میں،ا نہوں نے سب سے پہلے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بعد اس نے ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی ایس آئی آر کے عمل پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا  ہے اورانہوں نے 2023 کے قانون کو دوبارہ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپنے تین مطالبات کا اعلان کرتے ہوئے، نیہا بورا نے کہا، "ہماری تحریک اور گیانیش کمار کے استعفیٰ، ایس آئی آر کی مکمل معطلی، اور 2023 ایکٹ کی منسوخی کے مطالبات یکم نومبر 2026 کو دہلی کے رام لیلا میدان تک پہنچیں گے۔"


آئسا کی قومی صدر نیہا بورا نے جمعہ یعنی 30 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر اس سلسلے میں ایک ویڈیو پوسٹ شیئر کی۔ ویڈیو پوسٹ میں اپنے تین مطالبات کا اعلان کرتے ہوئے، انہوں نے عوام سے انڈیا بلاک میگا ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔ویڈیو پوسٹ میں، انہوں نے اپیل کی، "میں آپ سب سے اپیل کرتی ہوں کہ یکم  نومبر کو رام لیلا میدان پہنچ کر اپنے حق کا استعمال کریں اور جمہوریت کے تقدس کی حفاظت کریں۔"نیہا بورا نے اپنے ایکس ہینڈل پر شیئر کی گئی ویڈیو پوسٹ کے کیپشن میں لکھا، ’’چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کو جانا چاہیے!‘‘ ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا عمل روک دیا جائے!

آئسا کی قومی صدر نیہا بورا کے علاوہ،دھرو راٹھی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو پوسٹ شیئر کی، جس میں لوگوں سے انڈیا بلاک میگا ریلی میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی۔ اپنی ویڈیو پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ "اگلا احتجاج یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ہونے جا رہا ہے، اس بار کانگریس احتجاج کر رہی ہے، جس کے لیے انہیں ضروری اجازت مل گئی ہے، اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ہم اس ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ اس احتجاج میں شامل ہونے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اکٹھا کریں، اور ساتھ چلیں، کیونکہ یہ جمہوریت بچانے کی لڑائی ہے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔