نیٹ یو جی ری-ایگزام: بہار میں کئی ڈاکٹرز اور میڈیکل طلبا نقلی امیدوار بن کر پہنچے امتحان دینے، 24 کی گرفتاری

جانچ ایجنسیوں کے مطابق اس پورے ریکیٹ کا ماسٹر مائنڈ ارپت راج ہے، جو گیا میڈیکل کالج کا طالب علم بتایا جا رہا ہے۔ ارپت کا نام 2024 کے مشہور نیٹ پیپر لیک معاملہ میں بھی سامنے آیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>امتحان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

نیٹ یو جی ری-ایگزام کے دوران بہار میں ایک بہت بڑے ’سالور گینگ‘ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ لکھی سرائے ضلع کے 3 امتحان مراکز پر انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 7 سالور سمیت مجموعی طور پر 24 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمین میں بایومیٹرک ویریفکیشن کرنے والی کمپنی کے 14 ملازمین بھی شامل ہیں۔ ابتدائی جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ اصل امیدواروں کی جگہ دوسرے لوگوں کو امتحان دلانے کے لیے 30 لاکھ روپے تک کا سودا کیا گیا تھا۔

جانچ ایجنسیوں کے مطابق اس پورے ریکیٹ کا ماسٹر مائنڈ ارپت راج ہے، جو گیا میڈیکل کالج کا طالب علم بتایا جا رہا ہے۔ ارپت کا نام 2024 کے مشہور نیٹ پیپر لیک معاملہ میں بھی سامنے آیا تھا اور اس وقت سی بی آئی نے پوچھ تاچھ بھی کی تھی۔ اب ایک بار پھر اس کا نام امتحان دھاندلی سے جڑے معاملے میں سامنے آنے سے کئی سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔


پولیس کے مطابق اس گروہ کا انکشاف تب ہوا جب حاجی پور باشندہ اور پی ایم سی ایچ کا طالب علم مینک کشیپ مشتبہ سرگرمیوں کے دوران پکڑا گیا۔ مینک مبینہ طور سے بایومیٹرک کمپنی کے ملازم کی شکل میں امتحان مرکز میں داخل ہو گیا تھا۔ انتظامیہ کو اس کی سرگرمی پر شبہ ہوا، جس کے بعد اسے حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی۔ پوچھ تاچھ میں ملے سراغوں کی بنیاد پر 3 الگ الگ امتحان مراکز پر چھاپہ ماری کر نقلی امتحان دہندگان اور کمپنی ملازمین کو گرفتار کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ کئی ڈاکٹرز اور میڈیکل طلبا کسی دوسرے امیدوار کی جگہ امتحان دینے بیٹھے ہوئے تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا کہ پونم کمارمی نامی طالبہ، جو بی ایچ یو میں نرسنگ کی طالبہ ہے، وہ ایک امیدوار کی جگہ امتحان دینے پہنچی تھی۔ اس کے علاوہ رائے بریلی ایمس کا طالب علم سوربھ جھا، این ایم سی ایچ پٹنہ کا طالب علم سنجیت اور اتر پردیش کے ایک میڈیکل کالج کا طالب علم امن اگروال بھی اس گروہ سے جڑے پائے گئے۔ اب پولیس اور جانچ ایجنسیاں پورے نیٹورک کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس گروہ کا نیٹورک کئی ریاستوں تک پھیلا ہو سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملہ کی جانچ کے دوران کئی دیگر ملزمین کے نام سامنے آ سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔