نیٹ-یو جی ری-ایگزام: ٹیلیگرام پرعائد پابندی کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں آج سماعت، حکومت کے فیصلے کو پلیٹ فارم نے دیا چیلنج
این ٹی اے کے مطابق ’پیپر لیکڈ نیٹ‘، ’ری-نیٹ 2026‘، ’پرائیویٹ مافیا‘ اور ’ری نیٹ مافیا‘ جیسے ٹیلیگرام چینل طلبہ اور ان کے خاندانوں سے ہزاروں سے لے کر لاکھوں روپے تک کا مطالبہ کر رہے تھے۔

نیٹ-یو جی 2026 کے دوبارہ امتحان سے قبل میسجنگ ایپ ٹیلیگرام پر مرکزی حکومت کی جانب سے عائد کی گئی عارضی پابندی کا معاملہ اب دہلی ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ ٹیلیگرام نے حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ بدھ کو اس معاملے کی سماعت ہونی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم امتحان میں نقل، فرضی پیپر لیک کے دعووں اور آن لائن دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ٹیلیگرام کی جانب سے دائر درخواست کا ذکر جسٹس تیجس کریا کی عدالت میں کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے بدھ کو ہی اس معاملے کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کر دی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایپ پر لگائی گئی عارضی پابندی مناسب نہیں ہے۔
مرکزی حکومت نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی سفارش پر 22 جون تک ٹیلیگرام پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی 21 جون کو ہونے والے نیٹ-یو جی کے دوبارہ امتحان اور اس کے فوراً بعد تک نافذ رہے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والے فرضی پیپر لیک اور غلط معلومات کو روکنے کے لیے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے آئی ٹی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69 اے کے تحت یہ حکم نامہ جاری کیا۔ یہ فیصلہ این ٹی اے اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کی سفارشات کے بعد لیا گیا۔
واضح رہے کہ نیٹ-یو جی کا امتحان جو 3 مئی کو منعقد ہوا تھا بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 21 جون کو دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ امتحان کو مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کسی بھی طرح کی بے ضابطگی نہیں ہونے دیں گے اور امتحان بغیر کسی گڑبڑی کے مکمل کرایا جائے گا۔‘‘ این ٹی اے نے واضح کیا کہ یہ کارروائی کسی حقیقی پیپر لیک کی وجہ سے نہیں کی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق سوشل میڈیا پر فرضی پیغامات، افواہیں اور دھوکہ دہی کے معاملات تیزی سے بڑھ رہے تھے، جس سے طلبہ اور والدین میں خوف اور غلط فہمی پھیل رہی تھی۔
این ٹی اے کے مطابق ’پیپر لیکڈ نیٹ‘، ’ری-نیٹ 2026‘، ’پرائیویٹ مافیا‘ اور ’ری نیٹ مافیا‘ جیسے ٹیلیگرام چینل طلبہ اور ان کے خاندانوں سے ہزاروں سے لے کر لاکھوں روپے تک کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ چینلز جھوٹا دعویٰ کر رہے تھے کہ ان کے پاس امتحانی پیپر موجود ہے۔ ایجنسی نے دہرایا کہ امتحان کا سوالنامہ مکمل طور پر محفوظ نظام میں رکھا جاتا ہے اور امتحان سے پہلے کسی کے پاس نہیں پہنچ سکتا۔ ایسے تمام دعووں کو این ٹی اے نے پوری طرح سے فرضی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ این ٹی اے کے مطابق پہلے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی4سی) کی مدد سے کئی چینلز اور گروپس کو ہٹانے کی کوشش کی گئی، لیکن مطلوبہ نتائج نہیں ملے۔ اس کے بعد حکومت نے اسے ’آخری راستہ‘ مانتے ہوئے پورے پلیٹ فارم پر عارضی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
حکومت نے ٹیلیگرام کو ہندوستان میں 30 جون تک پہلے سے پوسٹ کیے گئے میسجز کو ایڈٹ کرنے والا فیچر بھی بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔ این ٹی اے کا کہنا ہے کہ حالیہ امتحانات میں اس فیچر کا غلط استعمال کر کے فرضی پیپر لیک کے ثبوت تیار کیے جا رہے تھے۔ ایجنسی کے مطابق ٹیلیگرام پر ایڈمن پرانی پوسٹس اور ان کے ساتھ منسلک پی ڈی ایف جیسے دستاویزات بعد میں بھی ایڈٹ کر سکتے ہیں، جبکہ پوسٹ کا پرانا ٹائم اسٹیمپ وہی رہتا ہے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر امتحان ختم ہونے کے بعد اصل سوالنامہ جوڑ دیا جاتا تھا اور پھر اسکرین شاٹ دکھا کر یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ پیپر پہلے ہی لیک ہو گیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
