نیٹ-یو جی 2024: نیٹ پیپر لیک معاملے میں سنجیو مکھیا کو کلین چٹ، سی بی آئی نے کہا ’نہیں ملا کوئی ثبوت‘
سی بی آئی کا کہنا ہے کہ پوری تحقیقات کے دوران سنجیو مکھیا کے خلاف ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ نیٹ-یو جی 2024 کا سوالیہ پرچہ چوری کرنے یا اسے تقسیم کرنے کی سازش میں ملوث تھا۔

نیٹ-یو جی 2024 پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی نے سنجیو مکھیا کو کلین چٹ دے دی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے کہا کہ سنجیو کمار عرف سنجیو مکھیا کے خلاف تحقیقات کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس سے اس معاملے میں اس کا کردار ثابت ہو سکے۔ ایجنسی نے کہا کہ اسے جان بوجھ کر بچائے جانے کی جو باتیں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع میں کہی جا رہی ہیں، وہ پوری طرح حقیقت کے برعکس اور بے بنیاد ہیں۔
سی بی آئی کے مطابق شروعات میں بہار پولیس نے نیٹ-یو جی 2024 کا سوالیہ پرچہ چوری ہونے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اس وقت سنجیو مکھیا کا نام ایف آئی آر میں اس لیے جوڑا گیا تھا کیونکہ وہ پہلے بھی امتحانی پرچے لیک کرنے اور چوری سے جڑے کچھ معاملات میں ملزم رہ چکا تھا۔ بعد میں یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا گیا۔ ایجنسی نے تفصیلی تحقیقات کے دوران سوالیہ پرچے کی چوری، اس کی تقسیم اور اس سے فائدہ اٹھانے والے تمام لوگوں کی شناخت کی۔ اس معاملے میں اب تک 45 ملزمان کے خلاف پٹنہ کی عدالت میں کئی چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہیں۔
سی بی آئی کا کہنا ہے کہ پوری تحقیقات کے دوران سنجیو مکھیا کے خلاف ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ نیٹ-یو جی 2024 کا سوالیہ پرچہ چوری کرنے یا اسے تقسیم کرنے کی سازش میں ملوث تھا۔ تحقیقات کے دوران سنجیو مکھیا فرار تھا۔ بعد میں بہار پولیس نے اسے دوسرے مقدمات میں گرفتار کیا۔ چونکہ اس کا نام نیٹ-یو جی معاملے کی ایف آئی آر میں بھی تھا، اس لیے سی بی آئی نے اسے پولیس ریمانڈ پر لے کر پوچھ گچھ کی۔
حالانکہ پوچھ گچھ اور تحقیقات کے بعد بھی سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا، اس لیے سی بی آئی نے اس معاملے میں اس کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی۔ ایجنسی نے بتایا کہ نیٹ-یو جی معاملے میں ضمانت ملنے کے باوجود سنجیو مکھیا دیگر مقدمات میں بہار پولیس کی تحقیقات کے باعث عدالتی حراست میں رہا۔ سی بی آئی نے دہرایا کہ نیٹ-یو جی 2024 پیپر چوری معاملے کی پوری سازش کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے اور اس میں ملوث تمام افراد کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق سنجیو مکھیا کو جان بوجھ کر تحقیقات سے باہر رکھنے کا دعویٰ پوری طرح غلط اور گمراہ کن ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
