’نیٹ پیپر لیک‘ نے مزید ایک زندگی کو کیا ختم، پٹنہ واقع ہاسٹل میں شروتی کماری کی خودکشی سے غم کا ماحول
سمستی پور باشندہ شروتی کماری نے پٹنہ واقع ہاسٹل کے اسی کمرے میں خودکشی کر لی ہے، جہاں وہ نیٹ کے لیے دن رات پڑھائی کرتی تھی۔ اس نے پھانسی سے لٹک کر اپنی جان دے دی۔

پیپر لیک کی وجہ سے مایوس طلبا کی خودکشی کے معاملے لگاتار بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ تازہ معاملہ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں پیش آیا ہے، جہاں نیٹ کا امتحان دینے والی ایک 17 سالہ طالبہ نے اپنی زندگی ختم کر لی۔ سمستی پور کی باشندہ شروتی کماری نے پٹنہ کے ہاسٹل میں خودکشی جیسا دردناک قدم اٹھایا، کیونکہ وہ مبینہ طور پر دوبارہ امتحان کا دباؤ نہیں کر پائی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شروتی کماری نے پٹنہ واقع ہاسٹل کے اسی کمرے میں خودکشی کر لی ہے، جہاں وہ نیٹ کے لیے دن رات پڑھائی کرتی تھی۔ واقعہ پترکار نگر تھانہ واقع سکریٹریٹ کالونی کے 2اے/26 کا ہے۔ یہاں رادھے کرشن ہاسٹل میں 2 جون کو شروتی کی لاش برآمد ہوئی۔ مہلوکہ سمستی پور کی رہنے والی تھی اور 2024 سے اسی ہاسٹل میں رہ کر پڑھائی کر رہی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ رات میں کھانا کھانے کے بعد شروتی سو گئی تھی، لیکن صبح اس کے کمرے کا منظر خوفناک تھا۔
10 روز قبل ہی شروتی سمستی پور واقع اپنے گاؤں سے پٹنہ لوٹی تھی۔ شروتی کے دوستوں کے مطابق وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ اس کے والدین اس سے بات نہیں کرتے۔ اس کی وجہ کیا ہے، اس بارے میں فی الحال کچھ بھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ کمرے سے شروتی کی لاش برآمد ہونے کے بعد فورنسک ٹیم نے جائے وقوع پر پہنچ کر اپنی جانچ مکمل کر لی ہے اور طالبہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نے شروتی کے اہل خانہ سے بھی بات کی ہے۔ لاش کا پوسٹ مارٹم ہونے کے بعد اسے اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔
اس سے قبل مدھیہ پردیش کے مئو گنج ضلع کی رہنے والی آکانکشا چترویدی نے بھی نیٹ پیپر لیک سے مایوس ہو کر خود کشی کر لی تھی۔ اس کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ پڑھنے میں بہت ہوشیار تھی۔ اس کا امتحان بھی بہت اچھا ہوا تھا اور وہ بہت خوش تھی، لیکن جب پیپر لیک ہوا تو وہ صدمہ میں چلی گئی۔ اس نے کھانا پینا تک چھوڑ دیا اور بات چیت بھی بند کر دی۔ اس کا کہنا تھا کہ اگلا امتحان اچھا نہیں ہوا تو وہ کیا کرے گی!
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
