نانا پاٹیکر کی آخری رسومات دیر رات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا، کئی فلمی و سیاسی ہستیوں نے کی شرکت
معروف اداکار نانا پاٹیکر کی موت کے معاملے میں گوا پولیس نے طبی و قانونی طور پر غیر فطری موت کا معاملہ درج کر کے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
بالی ووڈ کے مشہور و معروف اداکار نانا پاٹیکر کا 8 اکتوبر کو گوا میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد گوا سے ان کی میت پونے واقع ان کے فارم ہاؤس لائی گئی، جہاں ان کی آخری رسومات جمعرات کی دیر شب ادا کی گئیں۔ پونے کے ڈونجے فارم ہاؤس میں ’نانا امر رہیں‘ نعروں کے درمیان آنجہانی اداکار کی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ ان کے قریبی لوگوں کے مطابق نانا پاٹیکر کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ ان کی آخری رسومات ان کے فارم ہاؤس میں ہی ادا کی جائیں۔ نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار نے ان کے جسد خاکی کو آگ دکھائی۔ اداکار کی اہلیہ بھی آخری رسومات کے دوران موجود تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر کی میت رات 10.30 بجے کے بعد فارم ہاؤس میں اس جگہ لائی گئی جہاں آخری رسومات ادا ہونی تھیں۔ آنجہانی اداکار کی میت ترنگے میں لپٹی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ مارچنگ بینڈ بھی موجود تھا۔ میت کو ’چِتا‘ پر رکھا گیا تاکہ وہاں موجود لوگ آخری بار ان کا دیدار کر سکیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کر سکیں۔ اس دوران بھیڑ میں ’نانا پاٹیکر امر رہیں!‘ کے نعرے گونجتے رہے۔ انہیں بندوق کی گولیوں سے 3 بار سلامی بھی دی گئی۔
نانا پاٹیکر کی آخری رسومات میں کئی فلمی و سیاسی ہستیوں کی شرکت دیکھنے کو ملی، جن میں جیکی شراف، ساجد ناڈیاڈوالا، انل شرما، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے بھی شامل تھے۔ یہ سبھی اداکار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے آبائی گاؤں پہنچے تھے۔ وزیر اعلیٰ فڑنویس نے پونے میں نانا پاٹیکر کی میت کا آخری دیدار کیا، پھولوں کی چادر چڑھائی اور انہیں جذباتی خراج عقیدت پیش کیا۔ انھوں نے نانا کے بیٹے اور اہلیہ سے ملاقات کر کے غم کی اس گھڑی میں ان سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
قابل ذکر ہے کہ نانا پاٹیکر کے انتقال سے پورے ملک کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ جمعرات کو مرحوم اداکار کے ہزاروں مداح ان کے آخری دیدار کے لیے پونے واقع ان کے فارم ہاؤس پر جمع ہو گئے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اداکار کا آخری دیدار کیا۔ اس دوران کئی لوگوں نے نانا کے بڑے بڑے پوسٹر اٹھا کر انہیں آخری وداعی دی۔ آخری رسومات کے بعد نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے میڈیا کو بتایا کہ اہل خانہ نے ان کی موت کے دن ہی آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی ایک ویڈیو میں ملہار سے جمعرات کی دیر رات آخری رسومات ادا کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے بتایا کہ ’’ہم نے آج ہی آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا، کیونکہ ان کا انتقال صبح ہی ہو گیا تھا اور کافی وقت گزر چکا تھا۔ اسی لیے ہم نے آج ہی آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘
اس درمیان نانا پاٹیکر کی موت کے معاملہ میں گوا پولیس نے طبی و قانونی طور پر غیر فطری موت کا معاملہ درج کر کے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ یہ معاملہ ’بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا‘ (بی این ایس ایس) کی دفعہ 194 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات پی ایس آئی نتن نائک کررہے ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق نانا پاٹیکر کو گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع ان کی رہائش گاہ سے منی پال اسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ابتدائی اطلاعات میں ان کی موت کی وجہ کارڈیک اریسٹ بتائی گئی ہے۔ تاہم، موت کے حالات اور اس کی صحیح وجہ کا پتہ لگانے کے لیے پولیس قانونی کارروائی مکمل کر رہی ہے۔
تحقیقات کے تحت پولیس نے پنچ نامہ اور دیگر ضروری قانونی کارروائیاں مکمل کر لیں۔ نانا پاٹیکر کی میت کا پوسٹ مارٹم گوا میڈیکل کالج (جی ایم سی) میں کیا گیا۔ اب اہل خانہ اور واقعے سے متعلق دیگر افراد کے بیانات بھی درج کیے جائیں گے۔ تحقیقات کا مقصد موت کی وجہ اور اس سے متعلق حالات کی تصدیق کرنا ہے۔ اگر تحقیقات میں موت قدرتی پائی جاتی ہے اور کسی مشتبہ صورت حال کا پتہ نہیں چلتا، تو ضابطے کے مطابق معاملہ بند کیا جاسکتا ہے۔
