میرٹھ کے ’نیلا ڈرم‘ معاملے میں مسکان اور ساحل قصوروار قرار، 14 اکتوبر کو ہوگا سزا کا اعلان
مقتول سوربھ راجپوت کے بھائی راہل نے مسکان اور ساحل کے متعلق کہا کہ ’’ہم نے شروع سے ایک ہی مطالبہ کیا ہے کہ جو انہوں نے میرے بھائی کے ساتھ کیا وہی ان کے ساتھ ہو۔ انہیں کم از کم پھانسی ہونی چاہیے۔‘‘

اتر پردیش کے میرٹھ میں مشہور سوربھ راجپوت قتل کیس کو لے کر عدالت کا فیصلہ آ گیا ہے۔ عدالت نے شوہرکو قتل کر کے اس کی لاش کو نیلے رنگ کے پلاسٹک ڈرم میں چھپانے کی ملزم مسکان رستوگی اور اس کے عاشق ساحل کو قصوروار قرار دیا ہے۔ ضلع جج اروند کمار مشرا نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ اس معاملے میں سزا کا اعلان 14 اکتوبر کو کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سوربھ راجپوت قتل معاملہ میں جولائی 2025 میں ٹرائل شروع ہوا تھا۔ اس دوران تقریباً 13 مہینوں تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی میں 126 تاریخوں کے دوران 22 سے زیادہ گواہوں کے بیان درج کیے گئے۔ مقتول سوربھ راجپوت کے اہل خانہ نے عدالت سے دونوں ملزمان کو پھانسی کی سزا دینے کی اپیل کی ہے۔
مقتول سوربھ راجپوت کے بھائی راہل نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے کہا کہ ’’ہم شروع سے یہ امید لگائے ہوئے ہیں کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ ہم نے شروع سے ایک ہی مطالبہ کیا ہے کہ جو انہوں نے میرے بھائی کے ساتھ کیا وہی ان کے ساتھ ہو۔ انہیں کم از کم پھانسی ہونی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم تقریباً ڈیڑھ سال سے انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھائی کے قتل کے بعد ان کا کام تقریباً پوری طرح ختم ہو چکا ہے۔ عدالت کے لیے صبح 11 بجے نکلنا اور شام تقریباً 5 جبے گھر لوٹنا ہوتا ہے۔ راہل نے بتایا کہ 11دن وہ خود اور 9 دن ان کی ماں کو پیش ہونا پڑا ہے۔ وہ خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ بھی پیش ہوئے ہیں۔
راہل کے مطابق اس معاملے میں مجموعی طور پر 22 گواہ ہیں، جنہوں نے عدالت میں گواہی دی ہے۔ انہوں نے اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ہماری شروع سے امید یہی ہے کہ دونوں کو پھانسی ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر ضلع عدالت سے دونوں قصورواروں کو کم سزا ملی تو ہم ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک جائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ سوربھ راجپوت قتل کیس ’نیلے ڈرم‘ کی وجہ سے پورے ملک میں موضوع بحث بنا تھا۔ سوربھ کی لاش اس کے ہی گھر میں ایک نیلے ڈرم کے اندر ملی تھی۔ اہلیہ مسکان رستوگی اور اس کے عاشق ساحل پر سوربھ کو قتل کر کے اس کی لاش نیلے ڈرم میں ڈالنے کا الزام ہے۔ گزشتہ سال 19 مارچ کو پولیس نے مسکان اور ساحل کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
