ممبئی: وزیر اعظم اجولا اسکیم میں لاکھوں بوگس کنکشن!

گوپال تیواری نے کہا ہے کہ آر ٹی آئی سے ملی معلومات میں یہ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی سب سے اہم اسکیم کے صرف اشتہار پر مرکزی حکومت نے تقریباً 3 سو کروڑ روپیے خرچ کیے ہیں۔

تصویر قومی آواز
i
user

قومی آواز بیورو

ممبئی: ملک کے غریبوں خاص طور سے غریب خواتین کو دھویں سے نجات دلانے کے نام پر نہایت شور شرابے کے ساتھ شروع کی گئی مرکزی حکومت کی وزیر اعظم اجوولا اسکیم کے تحت لاکھوں بوگس کنکشن کا پردہ فاش ہوا ہے۔ کنٹرولر اینڈ آڈیٹرجنرل (سی اے جی) کی رپورٹ کے حوالے سے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان گوپال تیواری نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں اس اسکیم میں ہوئی بدعنوانی کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے سی اے جی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں یہ بات صاف طور پردرج ہے کہ اجوولا اسکیم کے تحت گیس کنکشن دینے کے جو شرائط مقرر کیے گیے تھے، ان کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے تقریباً گیارہ لاکھ لوگوں کو بوگس کنکشن دیا گیا ہے، جو ایک بڑی بدعنوانی کا اشارہ ہے۔

گوپال تیواری نے کہا ہے کہ اس اسکیم کے تحت 18 سال سے کم عمر کے تقریباً 8 لاکھ 59 ہزار نیز دو لاکھ بغیر آدھار کارڈ کے لوگوں کو گیس کنکشن دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی آئی سے ملی معلومات میں یہ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی سب سے اہم اسکیم کے صرف اشتہار پر مرکزی حکومت نے تقریباً 3 سو کروڑ روپیے خرچ کیے ہیں۔ غریبوں کو گیس کنکشن دیئے جانے کے لیے مودی حکومت نے غیر مستحق لوگوں سے سبسیڈی چھوڑنے کی جذباتی اپیل کی تھی، جس کے تحت 1 کروڑ تین لاکھ لوگوں نے اپنی گیس کی سبسیڈی چھوڑ دی تھی۔ ملک میں سبسیڈی چھوڑنے کے معاملے میں مہاراشٹر دوسرے نمبر پر ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ سابقہ یو پی اے حکومت کے ذریعے شروع کیے جانے والے آدھار کارڈ سے راشن کارڈ لنک کیے جانے کی اسکیم کے تحت فروری 2017 میں مودی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 15 کروڑ بوگس راشن کارڈ پکڑے گیے ہیں۔ اس کے ذریعے وہ یہ عوام کے ذہن میں یہ بات ڈالنا چاہتے تھے کہ کانگریس نے لوگوں کو جعلی راشن کارڈ دیئے ہیں۔ ان جعلی راشن کارڈوں کی تشہیر کے ذریعے کانگریس کے تعلق سے وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اجوولا اسکیم بوگس رجسٹریشن کے ذریعے فی کنکشن پر ہرماہ ( 4 سے 30 سیلنڈر تک) گھریلو استعمال کے کنکشن لیے جا رہے ہیں اور ان کا کمرشیل استعمال کیا جارہا ہے۔

سی اے جی کی رپورٹ میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ اس طرح کے تقریباً 22 لکھ رجسٹرڈ کنکشن ہیں جن کے نام پر گیس سلینڈر لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا سی اے جی کی اس چشم کشا رپورٹ کے باوجود مودی حکومت ان بوگس کنکشن کا پتہ لگانے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ گیس سلینڈر زیادہ قیمتوں کے ساتھ بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔