ممبئی: ہندوستان چھوڑنے کے نوٹس کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج دیں گے بالی ووڈ اداکار عمران خان!

عمران خان کی پیدائش 13 جنوری 1983 کو امریکہ کی ریاست وسکانسن کے شہر میڈیسن میں ہوئی تھی اور ان کے پاس امریکی پاسپورٹ کے ساتھ ہندوستان کا اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ بھی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بالی ووڈ اداکار عمران خان، ویڈیو گریب</p></div>
i


بالی ووڈ اداکار عمران خان نے ممبئی پولیس کے ہندوستان چھوڑنے کے نوٹس کے خلاف بامبے ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے ممبئی کے ’اگست کرانتی میدان‘ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر ہوئے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا تھا۔ اس دوران ممبئی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا، جس کے بعد انہیں 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔ اداکار پر ’فارنرز ایکٹ‘ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

عمران خان کو یہ نوٹس فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کے ذریعہ بھیجا گیا ہے۔ اداکار اس کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں ایک رِٹ عرضی داخل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے ’ایم زیڈ ایم لیگل ایل ایل پی‘ کو اپنا قانونی مشیر مقرر کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کی رپورٹس کے مطابق عمران خان جمعہ یا پیر تک اپنے ایم زیڈ ایم کے وکیل ذوالفقار میمن کے ذریعہ ممبئی پولیس کے ہندوستان چھوڑنے کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کریں گے۔


عمران خان کی عرضی کے مطابق ہندوستانی قانون یا کسی بھی قواعد میں یہ التزام نہیں ہے، جو اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ رکھنے والوں کو مظاہرے میں شامل ہونے سے روک سکے۔ عرضی میں ممبئی پولیس کے ذریعہ بھیجے گئے نوٹس میں 43 سالہ اداکار کو ہندوستان چھوڑنے کے حکم دینے کو بھی انتہائی سخت قدم قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان کی پیدائش 13 جنوری 1983 کو امریکہ کی ریاست وسکانسن کے شہر میڈیسن میں ہوئی تھی اور ان کے پاس امریکی پاسپورٹ کے ساتھ ہندوستان کا اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ بھی ہے۔ ہندوستانی شہری نہ ہونے کے باوجود ملک میں سیاسی احتجاج میں شامل ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں ملک سے باہر بھیجنے کا مطالبہ بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر لوگوں نے بھی کیا۔


قابل ذکر ہے کہ عمران خان نے احتجاج میں شرکت پر اپنا ردعمل بھی دیا تھا۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وہاں کسی بھی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے، بلکہ صرف ایک شہری کی حیثیت سے پہنچے تھے۔ احتجاج میں اپنے مطالبے کے بارے میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ ان کا کسی سے کوئی مطالبہ نہیں تھا۔ پولیس کی حراست میں لیے جانے کے بعد بھی ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں وہ کہتے نظر آئے تھے کہ وہ کبھی جیل نہیں گئے، لیکن اب ممکن ہے کہ انہیں جیل جانا پڑے۔ ان کی یہ ویڈیو کافی وائرل ہوئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔