موشی کچرا ڈمپ حادثہ: 83 گھنٹوں کا طویل ریسکیو آپریشن ختم، ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی، ملبے سے آخری لاش برآمد
ملبے تلے مجموعی طور پر 23 افراد دب گئے تھے، جن میں سے فائر بریگیڈ اور این ڈی آر ایف کی ٹیموں نے سخت محنت و مشقت کے بعد 14 افراد کو زندہ باہر نکال لیا، جبکہ 9 افراد کو بچایا نہیں جا سکا۔
مہاراشٹر کے پونے سے متصل پمپری چنچواڑ علاقے کے موشی کچرا ڈپو میں گزشتہ 4 دنوں سے جاری ریسکیو آپریشن اتوار علی الصبح ختم ہو گیا۔ تقریباً 83 گھنٹوں تک یہ ریسکیو آپریشن چلتا رہا۔ اس انتہائی مشکل اور خطرناک ریسکیو آپریشن کے آخری مرحلے میں اتوار کی رات تقریباً ایک بجے آخری لاپتہ ملازم کی لاش برآمد کر لی گئی۔ اس کے ساتھ ہی اس دردناک حادثے میں جان گنوانے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق اتوار علی الصبح ملبے سے آخری لاش نکالی گئی۔ متوفی ملازم کی شناخت وامن قصبے کے باشندے کے طور پر ہوئی ہے۔ ملبے سے لاش نکالنے کے بعد فوری طور پر پوسٹ مارٹم کے لیے پمپری کے یشونت راؤ چوہان میموریل اسپتال (وائی سی ایم ایچ) بھیج دیا گیا۔
پی سی ایم سی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ آخری لاپتہ ملازم کی لاش ملنے کے ساتھ ہی ریسکیو آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔ ملبے تلے دبے یا پھنسے ہوئے تمام 23 افراد کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ یہ دل دہلا دینے والا حادثہ بدھ کی دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آیا تھا، جب موشی کچرا ڈپو احاطے میں واقع ’ویسٹ ٹو انرجی‘ (ڈبلیو ٹی ای) پلانٹ کے انتظامی دفتر کی 3 منزلہ عمارت (گراؤنڈ پلس ٹو) پر اچانک کچرے کا ایک بہت بڑا ڈھیر پھسل گیا۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت زیادہ تر ملازمین عمارت کی پہلی منزل پر واقع کینٹین میں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔ جیسے ہی کچرے کے دباؤ سے عمارت گرنے لگی، پانچ ملازمین کسی نہ کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
ملبے تلے مجموعی طور پر 23 افراد دب گئے تھے، جن میں سے فائر بریگیڈ اور این ڈی آر ایف کی ٹیموں نے سخت محنت و مشقت کے بعد 14 افراد کو زندہ باہر نکال لیا، جبکہ 9 افراد کو بچایا نہیں جا سکا۔ اس بڑے پیمانے پر چلائے گئے ریسکیو آپریشن میں ہندوستانی فوج، نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، پی ایم آر ڈی اے فائر بریگیڈ، مقامی پولیس اور پی سی ایم سی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں نے مل کر کام کیا۔ ملبے کو ہٹانے کے لیے جے سی بی، کھدائی کرنے والی جدید مشینوں کو کام پر لگا دیا گیا۔ جزوی طور پر منہدم عمارت کے غیر مستحکم ڈھانچے اور بڑے ملبے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن انتہائی سست اور خطرناک تھا۔ ٹیم کو کچرے سے نکالنے والی میتھین جیسی زہریلی گیسوں اور ملبے کے دوبارہ دھنسنے کے خطرے کے درمیان کام کرنا پڑا۔
انتظامی افسران کے مطابق مسلسل 3 دنوں کے دوران ہونے والی 650 ملی میٹر (ایم ایم) سے زیادہ موسلا دھار بارش تباہی کی بنیادی وجہ بنی۔ شدید بارش کی وجہ سے پانی کچرے کے پہاڑ کے اندر سرایت کر گیا، جس سے ملبے کے اندر میتھین اور دیگر گیسوں کا دباؤ بڑھا اور کچرے کا ایک بہت بڑا حصہ پھسل کر سیدھا انتظامی عمارت پر آ گرا۔ اس حادثے نے 81 ایکڑ پر پھیلے موشی کچرا ڈپو میں کچرے کے انتظام، کچرے کے ڈھیروں کے استحکام اور اس خطرناک مقام کے اتنے قریب انتظامی عمارت کی تعمیر کی اجازت دینے میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سنگین قانونی اور انتظامی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ شہری انتظامیہ نے اسے ایک قدرتی آفت قرار دیا ہے، لیکن ذمہ داری کا تعین کرنے اور اعلیٰ سطحی جانچ کے لیے حکم دے دیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
