سی بی ایس ای 12 ویں ری ایویلویشن کے لیے 1.6 لاکھ سے زائد طلبا نے دی درخواست، 3.8 لاکھ سے زائد کاپیوں کی دوبارہ ہوگی جانچ

بورڈ کے مطابق ویریفکیشن اور ری ایویلویشن کے لئے درخواست ونڈو2 جون سے 7 جون تک کھلا رہا اور اس دوران پوری کارروائی سرکاری تکنیکی ایجنسیوں، آئی آئی ٹی ٹیموں کی نگرانی اورانتظامات کے درمیان انجام دی گئی۔

سی بی ایس ای، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

سی بی ایس ای نے پوسٹ ریزلٹ سروسیز پورٹل کے حوالے سے سامنے آ رہی میڈیا رپورٹ اور سوشل میڈیا رپورٹ کے درمیان وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویریفکیشن اور ری ایویلویشن کی درخواست کا عمل مقررہ وقت کے مطابق پوری طرح منظم طریقے سے چلا۔ بورڈ کے مطابق ویریفکیشن اور ری ایویلویشن کے لئے درخواست ونڈو 2 جون سے 7 جون تک کھلا رہا اور اس دوران پوری کارروائی سرکاری تکنیکی ایجنسیوں، آئی آئی ٹی ٹیموں کی نگرانی اور انتظامات کے درمیان شروع کی گئی۔

سی بی ایس ای نے بتایا کہ اس مدت کے دوران 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد طلبا نے 3 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جوابی شیٹس سے متعلق درخواستیں کامیابی کے ساتھ جمع کی ہیں۔ بورڈ نے کہا کہ درخواست جمع کرنے کے عمل کے دوران سائبر سیکورٹی ٹیمیں مسلسل سسٹم کی نگرانی کرتی رہیں تاکہ کسی بھی طرح کے سائبر حملے، غلط ٹریفک اور تکنیکی رکاوٹوں کو روکا جاسکے۔


اس کے علاوہ سی بی ایس ای کی خصوصی ٹیموں نے ہیلپ لائن، ہیلپ سینٹر اور شکایات کے ازالے کے ذریعے طلبا کو مسلسل مدد فراہم کی۔ سی بی ایس ای نے ’رول نمبر ناٹ فاؤنڈ‘ جیسے میسیج کے حوالے سے بھی صورتحال واضح کی۔ بورڈ کے مطابق یہ ان طلبا کو نظر آیا جنہوں نے پہلے مرحلے یعنی جوابی بک فوٹو کاپی ایپلی کیشن ونڈو کے دوران درخواست نہیں کی تھی۔ بورڈ نے اس بات کو دہرایا کہ ویریفکیشن اور ری ایویلویشن کے اگلے مرحلے کا فائدہ صرف انہیں طلبا کو مل سکتا تھا جنہوں نے پہلے مرحلے میں اسکین کی گئی جوابی کاپیوں کے لیے درخواست کی تھی۔ سی بی ایس ای نے کہا کہ بورڈ شفاف، طلبا پر مرکوز اور بعد از نتائج سادہ عمل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور طلبہ کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔

سی بی ایس ای 12ویں کی جوابی کاپیوں کا ری ایویلویشن اب آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سسٹم کے تحت بورڈ کے اپنے پورٹل پر کیا جائے گا۔ آئی آئی ٹی جائزہ پینل نے اس تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ پینل نے پایا کہ ’کوئمپٹ ایجوٹیک‘ پورٹل میں سیکورٹی سے متعلق کئی خامیاں تھیں جس سے حساس ڈیٹا اور ریکارڈ کے لیک ہونے کا خطرہ تھا۔