پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: کانگریس چندہ چوری، پیپر لیک اور مہنگائی سمیت اہم مسائل پر مودی حکومت کو گھیرے گی

ملکارجن کھڑگے نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر بتایا کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کے اجلاس میں عوام کی زندگیوں اور ان کی امنگوں کو متاثر کرنے والے اہم مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے سرکردہ لیڈران کی میٹنگ کا منظر، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/kharge">@kharge</a></p></div>
i

کانگریس نے پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس کے دوران مودی حکومت کو کئی اہم عوامی اور قومی مسائل پر جوابدہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ چندہ چوری، عقیدہ سے دھوکہ، پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی، اداروں پر قبضہ، سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کی کوششیں، متعدد گھوٹالے اور بدعنوانی کے الزامات، کمر توڑ مہنگائی، خارجہ پالیسی کی ناکامیاں اور اسٹریٹجک غلطیاں... ایسے اہم مسائل ہیں جن پر کانگریس پارلیمنٹ میں مودی حکومت کو جوابدہ بنائے گی۔

ملکارجن کھڑگے نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر بتایا کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کے اجلاس میں عوام کی زندگیوں اور ان کی امنگوں کو متاثر کرنے والے ان اہم مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کانگریس صدر کے مطابق تعلیمی نظام میں پیپر لیک کے مسلسل واقعات اور نظامی بدعنوانی بھی مانسون اجلاس کے دوران پارٹی کے اہم موضوعات میں شامل رہے گی۔ کانگریس کا الزام ہے کہ تعلیمی اداروں اور نظام میں بدعنوانی کے باعث طلبا اور نوجوانوں کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ کانگریس مختلف اداروں پر قبضے اور سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کے معاملے کو بھی پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری اداروں اور سیاسی نظام کو کمزور کرنے والی سرگرمیوں پر حکومت سے جواب طلب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مختلف گھوٹالوں اور بدعنوانی کے الزامات پر بھی مودی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ملک میں بڑھتی مہنگائی بھی کانگریس کے ان اہم موضوعات میں شامل ہے، جو مانسون اجلاس کے دوران اٹھایا جائے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ضروری اشیا کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے اور عوام کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی کانگریس خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور اسٹریٹجک غلطیوں کو بھی پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ پارٹی کا الزام ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق بعض فیصلوں نے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔


کانگریس نے حکومت کی ایتھنول بلینڈنگ پالیسی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ تقریباً 3.5 کروڑ گاڑی مالکان پر ایتھنول بلینڈنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ کانگریس اس پالیسی کے اثرات اور اس سے گاڑی مالکان کو ہونے والی مشکلات پر حکومت سے جواب طلب کرے گی۔ اس کے علاوہ بے قابو جنگلات کی کٹائی بھی کانگریس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ماحولیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے معاملے میں حکومت کی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

کانگریس صدر اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور اقلیتوں کے حقوق پر مسلسل حملے بھی مانسون اجلاس کے دوران اہم موضوع ہوں گے۔ سماج کے محروم اور کمزور طبقات کے آئینی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا ضروری ہے۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ان تمام مسائل پر غور کیا گیا اور پارٹی نے آئندہ پارلیمانی اجلاس کے دوران عوام سے متعلق ان اہم معاملات کو پوری قوت کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے مطابق پارٹی عوام کی زندگیوں اور ان کی امنگوں سے جڑے ان مسائل پر مودی حکومت سے جواب طلب کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔