مانسون اجلاس: 19 گھنٹے بھی نہیں چل سکی لوک سبھا، راجیہ سبھا کا بھی رہا برا حال، ٹیکس دہندگان کے 175 کروڑ روپے برباد
پی آر ایس کے اعداد و شمار کے مطابق راجیہ سبھا کی پروڈکٹیوٹی رواں سیشن میں محض 39.17 فیصد رہی۔ ایوان طے شدہ وقت کے مقابلے میں کل 37 گھنٹے 49 منٹ ہی کام کر سکا۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جمعرات (13 اگست) کو ختم ہو گیا۔ آج بھی دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ لوک سبھا ’وندے ماترم‘ کے ترانے کے بعد ملتوی ہو گئی اور راجیہ سبھا میں تقریباً ایک گھنٹے تک بحث ہوئی۔ اس بار کا مانسون اجلاس ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ چندہ چوری، جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج و لاٹھی چارج اور ایف سی آر اے بل سمیت کئی ایسے مسائل رہے جو بحث کا مرکز بنے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ایوانوں میں بہت کم کام کاج ہوا۔
پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ کے مطابق رواں اجلاس میں مجموعی طور پر 19 میٹنگیں تجویز کی گئی تھیں اور روزانہ ایوان کو تقریباً 7 گھنٹے کا کام کرنا تھا۔ اس حساب سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کو تقریباً 114-114 گھنٹے کا کام کاج ہونا تھا، لیکن ہنگامے، نعرے بازی اور بار بار کارروائی ملتوی ہونے کے باعث دونوں ایوان اس ہدف کے آس پاس بھی نہیں پہنچ پائے۔ اسی دوران لیڈران کی آپسی بحث و تکرار کی وجہ سے ٹیکس دہندگان یعنی عام آدمی کا تقریباً 175 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
پی آر ایس کے اعداد و شمار کے مطابق راجیہ سبھا کی پروڈکٹیوٹی رواں سیشن میں محض 39.17 فیصد رہی۔ ایوان طے شدہ وقت کے مقابلے میں کل 37 گھنٹے 49 منٹ ہی کام کر سکا۔ یعنی جتنا وقت طے تھا اس کا نصف سے بھی کم حصہ اصل کام کاج میں استعمال ہو سکا۔ باقی وقت ہنگامہ آرائی، نعرے بازی اور بار بار التوا کی نذر ہو گیا۔ پورے سیشن کے دوران اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ مسلسل مختلف موضوعات پر ایوان میں ہنگامہ آرائی کرتے رہے۔ طلبہ کے احتجاج پر پولیس کی کارروائی کا معاملہ ہو یا دیگر سیاسی تنازعات، ان وجوہات کی بنا پر ایوان کی کارروائی روزانہ کئی بار دوپہر یا شام تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اہم سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ حکمراں جماعت کا کہنا تھا کہ وہ بحث کے لیے ہمیشہ تیار تھی۔
واضح رہے کہ مانسون اجلاس میں اگر راجیہ سبھا کا حال برا تھا تو لوک سبھا کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب رہی۔ پی آر ایس کے مطابق مانسون اجلاس 2026 میں لوک سبھا کی پروڈکٹیوٹی گھٹ کر صرف 16 فیصد رہ گئی۔ پورے سیشن میں لوک سبھا محض 17.4 گھنٹے ہی کام کر سکی جبکہ طے شدہ پروگرام کے حساب سے اسے کہیں زیادہ گھنٹے کام کرنا تھا۔ لوک سبھا میں بھی کئی اہم بلوں پر بحث متاثر ہوئی یہاں تک کہ جن بلوں کو پاس کیا جانا تھا ان پر بھی ٹھیک سے بحث نہیں ہو سکی۔ ایوان کی کارروائی تقریباً ہر دن دوپہر 12 بجے، پھر 2 بجے اور کئی بار شام 5 بجے تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں کم از کم 108 گھنٹے کا کام کاج ہونا چاہیے تھا لیکن صرف 19 گھنٹے ہی ہو سکا۔ اگر اوسط نکالیں تو لوک سبھا روزانہ صرف 60 منٹ ہی چلی ہے۔ اس دوران 12 بل پاس کیے گئے، جن میں سے ایک بل بحث کے بعد پاس ہوا لیکن 11 بل ایسے تھے جن پر نہ تو کوئی بحث ہوئی اور نہ ہی کوئی گفتگو۔ انہیں بس ہنگامے کے دوران پیش کیا گیا اور صوتی ووٹ سے پاس کر دیا گیا۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق لوک سبھا میں آج کے ہنگامے کے باعث اسپیکر اوم برلا نے اپنا روایتی خطاب نہیں کیا کیونکہ ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی نعرے بازی شروع ہو گئی تھی۔ ایسے میں اسپیکر کے خطاب کے لیے ایوان میں ماحول سازگار نہیں تھا۔ جمعرات کو لوک سبھا میں جب 11:00 بجے سے پہلے وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ پہنچ گئے۔ امت شاہ کے پہنچتے ہی اپوزیشن کے لوگ ’معافی مانگو، معافی مانگو‘ اور ’لاٹھی کس نے چلائی‘ کے نعرے لگانے لگے، اس کے بعد حکمراں جماعت کے پارلیمنٹ نے ہنگامہ شروع کیا تو وزیر داخلہ امت شاہ نے سب کو اشارہ کر کے بیٹھنے کو کہا۔ امت شاہ کے سامنے کانگریس سمیت اپوزیشن کے اراکین نعرے لگا رہے تھے ’معافی مانگو، معافی مانگو‘ اس کے بعد وزیر اعظم آئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے آتے ہی ’وندے ماترم‘ کا ترانہ ہوا اور لوک سبھا کی کارروائی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
