ہنگامہ کے ساتھ ہوا مانسون اجلاس کا آغاز، لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی تیسری بار ملتوی

لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے ایودھیا کے رام مندر میں چندہ چوری کا ایشو اٹھایا۔ وقفہ سوالات کی کارروائی شروع ہوتے ہی کچھ اپوزیشن لیڈران ویل میں آ گئے اور چندہ چوری معاملہ پر بحث کا مطالبہ کرنے لگے۔

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا / آئی اے این ایس</p></div>
i

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج امید کے مطابق انتہائی ہنگامہ خیز انداز میں شروع ہوا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی ایوانوں میں نیٹ پیپر لیک اور رام مندر میں چندہ چوری معاملہ پر اپوزیشن اراکین نے زوردار ہنگامہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ہی ایوانوں کی کارروائی 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ 12 بجے کے بعد دونوں ہی ایوانوں کی کارروائی شروع ہوئی، لیکن ہنگامہ والے حالات مستقل بنے رہے۔ کچھ دیر کارروائی چلنے کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی جہاں 12.50 بجے کے لیے ملتوی ہوئی، وہیں لوک سبھا کی کارروائی 1.00 بجے تک کے لیے ملتوی کی گئی۔ اس کے بعد بھی ایوان میں ہنگامہ جاری رہا اور دونوں ہی ایوانوں کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے چندہ چوری کے ایشو پر اپنی آواز بلند کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملہ میں جوابدہی طے کرے۔ وقفہ سوالات کی کارروائی شروع ہوتے ہی کچھ اپوزیشن لیڈران ویل میں آ گئے اور چندہ چوری معاملہ پر بحث کا مطالبہ کرنے لگے۔ نعرے بازی اور تختیاں لہرائے جانے کی وجہ سے ایوان زیریں میں حالات کشیدہ معلوم ہونے لگے۔


لوک سبھا میں اپوزیشن کے ہنگامہ پر اسپیکر اوم برلا نے سخت اعتراض کیا۔ انھوں نے اراکین سے ایوان کی روایت پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ اسپیکر نے کہا کہ تختیاں لہرانا ایوان کی روایت نہیں ہے۔ انھوں نے وقفہ سوالات چلنے دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سبھی اراکین کو بولنے کا مناسب موقع فراہم کیا جائے گا۔ حالانکہ اسپیکر کی اپیل پر اپوزیشن اراکین پر کوئی اثر نہیں ہوا اور ہنگامہ جاری رہا۔ اس ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے اوم برلا نے کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسپیکر نے کہا کہ ’’آپ ایوان نہیں چلانا چاہتے۔ آپ بحث نہیں چاہتے۔ ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لیے ملتوی کی جاتی ہے۔‘‘

دوسری طرف راجیہ سبھا میں بھی کچھ لوک سبھا جیسا ہی نظارہ دیکھنے کو ملا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جنتر منتر پر لاٹھی چارج کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ طلبا کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ ہزاروں بچے وہاں لاٹھی چارج ہو گیا ہے۔ حکومت طلبا کو مارنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت اسے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کھڑگے کے اس بیان کے بعد ایوان میں ہنگامہ ہونے لگا۔ ماحول گرم ہوتا دیکھ ایوان بالا کی کارروائی بھی 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔