’منڈے میٹرو‘ صرف سستی تشہیری سیاست، دہلی کے لوگ اب بھی مسائل سے پریشان: ڈاکٹر نریش کمار

نریش کمار نے دہلی حکومت کی ’منڈے میٹرو‘ مہم کو تشہیری سیاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام آج بھی ٹریفک جام، آلودگی، بسوں کی کمی، خواتین کے تحفظ اور خراب پبلک ٹرانسپورٹ جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر نریش کمار / تصویر بشکریہ ایکس /&nbsp;DrNareshkr@</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نئی دہلی: سینئر کانگریس رہنما ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ’منڈے میٹرو‘ مہم کو محض علامتی اور سستی تشہیری سیاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا اور کیمروں کے ذریعے عوامی ٹرانسپورٹ کے تئیں سنجیدگی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ دہلی کے لوگ آج بھی شدید ٹریفک جام، آلودگی، بسوں کی کمی، خراب عوامی ٹرانسپورٹ نظام اور خواتین کے تحفظ کے مسائل سے پریشان ہیں۔

ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ اگر حکومت واقعی پٹرول اور ڈیزل کے استعمال کو کم کرنا چاہتی ہے تو اسے پہلے دہلی کے عوامی ٹرانسپورٹ نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق ہفتے میں ایک دن ’منڈے میٹرو‘ منانے اور تصویری مہم چلانے سے دہلی کے ٹرانسپورٹ بحران کا حل ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں دہلی کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ تھی، جو 2026 میں بڑھ کر تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی گزشتہ بارہ برسوں میں شہر پر تقریباً 40 سے 50 لاکھ اضافی لوگوں کا بوجھ بڑھا لیکن اس کے مطابق عوامی ٹرانسپورٹ کے ڈھانچے میں توسیع نہیں کی گئی۔


ڈاکٹر نریش کمار کے مطابق 2014 میں دہلی میں تقریباً 6 ہزار سرکاری بسیں تھیں اور 2026 میں بھی تعداد تقریباً وہی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق دہلی جیسے بڑے شہر کو کم از کم 11 ہزار بسوں کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے لاکھوں لوگ روزانہ گھنٹوں بس اسٹاپ پر انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے کئی علاقوں میں آج بھی مناسب بس شیلٹر اور بس اسٹینڈ موجود نہیں ہیں۔ لوگ شدید گرمی، بارش اور سردی میں کھلے آسمان کے نیچے بسوں کا انتظار کرتے ہیں۔ کئی مقامات پر بیٹھنے، پینے کے پانی اور محفوظ شیڈ جیسی بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔

خواتین کے تحفظ کے معاملے پر ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ حکومت بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، مگر زمینی صورتحال تشویشناک ہے۔ خواتین خاص طور پر رات کے وقت عوامی ٹرانسپورٹ میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ کئی بس اسٹاپ اور سڑکیں اندھیرے میں ڈوبی رہتی ہیں جبکہ سکیورٹی انتظامات بھی ناکافی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں نجی گاڑیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر نئی سڑکوں اور متبادل ٹریفک کوریڈور کی تعمیر پر سنجیدہ کام نہیں ہوا۔ اس کے نتیجے میں دارالحکومت کی تقریباً ہر بڑی سڑک پر روزانہ شدید ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جس سے ایندھن کا ضیاع، وقت کی بربادی اور آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ عوام کو اشتہارات اور فوٹو سیشن نہیں بلکہ حقیقی راحت کی ضرورت ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔