دہلی میں راہل گاندھی سے ’محمد دیپک‘ کی ملاقات، ’ہر انسان ایک برابر‘ کا پیغام، کوٹ دوار آنے کا وعدہ
کوٹ دوار کے محمد دیپک نے دہلی میں راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ راہل نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے مساوات اور محبت کا پیغام دیا، جبکہ دیپک نے کہا کہ انہیں یقین دلایا گیا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا

نئی دہلی: اتراکھنڈ کے کوٹ دوار کے رہائشی محمد دیپک (اصل نام دیپک کمار) نے آج 23 فروری کو نئی دہلی میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کوٹ دوار میں دکان کے نام کے تنازع کے بعد دیپک کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے اور معاملہ قومی سطح پر زیر بحث ہے۔
راہل گاندھی نے ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ہر انسان، ایک سمان (برابر)۔ یہی ہے بھارتیتا، یہی ہے محبت کی دکان۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اتراکھنڈ کے بھائی محمد دیپک سے ملاقات ہوئی اور اتحاد اور حوصلے کی ایسی ہی شمع ہر ہندوستانی نوجوان میں روشن ہونی چاہیے۔ راہل گاندھی کے اس پیغام کو سیاسی حلقوں میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے دیپک کو یکجہتی اور جرات کی علامت کے طور پر پیش کیا۔
ملاقات کے بعد دیپک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ راہل گاندھی نے ان کا اور ان کے خاندان کا حال چال پوچھا اور ان کی اہلیہ سے فون پر بھی بات کی۔ دیپک کے مطابق راہل گاندھی نے انہیں یقین دلایا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ دیپک نے یہ بھی کہا کہ راہل گاندھی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کوٹ دوار آئیں گے اور ان کے جم کی ممبرشپ حاصل کریں گے۔ دیپک کا کہنا تھا کہ جس انداز میں راہل گاندھی نے ان سے بات کی اور حوصلہ افزائی کی، وہ اس سے بہت خوش ہیں۔
خیال رہے کہ محمد دیپک کوٹ دوار میں ایک جم ٹرینر ہیں۔ 26 جنوری 2026 کو وہ اس وقت سرخیوں میں آئے جب انہوں نے ایک 70 سالہ مسلم دکاندار وکیل احمد کو بجرنگ دل کے کارکنوں کی جانب سے کیے جا رہے دباؤ کے دوران تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ دیپک نے ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر مخالفت کی اور اپنا نام محمد دیپک بتایا، جسے کئی حلقوں نے سیکولر اقدار کے اظہار کے طور پر دیکھا۔
اس واقعے کے بعد جہاں ایک جانب ان کی حمایت میں آوازیں اٹھیں، وہیں دوسری جانب ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں آئی۔ دہلی میں راہل گاندھی سے ملاقات کو اسی سلسلے کی اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس نے اس معاملے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔