’مودی صرف وہی کرتے ہیں جو اسرائیل اور امریکہ ان سے کروانا چاہتے ہیں‘، راہل نے پی ایم مودی پر پھر کیا حملہ
راہل گاندھی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی خارجہ پالیسی بن گئی ہے۔ اس بات کا اثر ہم دیکھ پا رہے ہیں کہ یہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔
’’ملک کی خارجہ پالیسی آج کمپرومائزڈ ہے، کیونکہ پی ایم مودی خود کمپرومائزڈ ہیں۔ مودی صرف وہی کرتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل ان سے کروانا چاہتے ہیں۔ مودی کبھی بھی ہندوستان کے مفاد کے فیصلے لے ہی نہیں سکتے، اور یہ صاف نظر آ رہا ہے۔‘‘ یہ بیان آج لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے دیا۔ وہ اسرائیل-امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے ہندوستان میں پیدا حالات پر پہلے بھی پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، اور آج ایک بار پھر انھوں نے وزیر اعظم پر ’کمپرومائزڈ‘ ہونے کا سنگین الزام عائد کیا۔
قابل ذکر ہے کہ مغربی ایشیا میں گزشتہ 25 دنوں سے جاری جنگ کے سبب اب ہندوستان کی سیاست میں بھی گرماہٹ بڑھ گئی ہے۔ جہاں ایک طرف پیر کے روز لوک سبھا کے بعد منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا میں بھی مغربی ایشیا کشیدگی پر حکومت ہند کا رخ صاف کیا، وہیں دوسری طرف پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پی ایم مودی پر ان کی خارجہ پالیسی کو لے کر خوب حملہ کیا۔
صحافیوں سے بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی خارجہ پالیسی بن گئی ہے۔ اس بات کا اثر ہم دیکھ پا رہے ہیں کہ یہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ پوری دنیا اسے مذاق مانتی ہے۔ راہل گاندھی نے ایک بار پھر پی ایم مودی پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کنٹرول میں ہونے کا سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پی ایم مودی پوری طرح سے ٹرمپ کے کنٹرول میں ہیں۔ ٹرمپ کو سب پتہ ہے کہ پی ایم مودی کیا کرنے والے ہیں اور کیا نہیں۔‘‘ راہل گاندھی نے تنبیہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر وزیر اعظم کی حالت کمزور ہوئی تو ملک کی کارجہ پالیسی بھی کمزور ہو جائے گی۔ انھوں نے سخت الفاظ کے ساتھ کہا کہ ’’امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر لیا، کل پارلیمنٹ میں بے تُکا بیان دے دیا۔ اس سے ہندوستان کے وزیر اعظم کی شکل میں کوئی ٹھوس رخ نہیں دکھائی دیا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’پی ایم مودی کے غلط پالیسیوں کے سبب عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، مثلاً ایل پی جی اور پٹرول کی بڑھتی قیمتیں۔‘‘
راہل گاندھی نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم مودی نے حالات کو کووڈ جیسی حالت سے جوڑ کر بتایا، لیکن وزیر اعظم نے یہ نہیں بتایا کہ کووڈ کے دوران کتنی جانیں گئی تھیں اور کتنی تباہی ہوئی تھی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ میں کُل جماعتی میٹنگ سے متعلق بھی اپنی آراء نامہ نگاروں کے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیرالہ میں اپنے پروگرام کے سبب کُل جماعتی میٹنگ میں شامل نہیں ہو پائیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے الزام عائد کیا کہ میٹنگ میں ڈھانچہ پر مبنی غلطی ہوئی ہے اور اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔