’مودی جی، بس پیپر لیک بند نہیں کر پائے‘، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش پر راہل گاندھی کا طنزیہ تبصرہ
راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میٹرو بند کرو۔ راستے بند کرو۔ انٹرنیٹ بند کرو۔ کھانا بند کرو۔ اپنا حق مانگ رہے طلبہ کے خلاف حکومت نے یہ ظالمانہ اقدامات اٹھائے۔‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ہفتے کے روز مرکزی حکومت اور خصوصی طور پر وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے حکومت پر دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کھانا، میٹرو، سڑکیں اور دکانیں بند کر سکتی ہے، لیکن اس سے پیپر لیک کو نہیں روکا جا سکتا۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک جارحانہ پوسٹ جاری کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’میٹرو بند کرو۔ راستے بند کرو۔ انٹرنیٹ بند کرو۔ کھانا بند کرو۔ اپنا حق مانگ رہے طلبہ کے خلاف حکومت نے یہ ظالمانہ اقدامات اٹھائے۔‘‘ اس کے بعد راہل گاندھی طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ ’’بس ایک چیز بند نہیں کر پائے مودی جی، پیپر لیک۔‘‘
واضح رہے کہ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ ڈی ایم آر سی نے لکھا کہ ’’سروس سے متعلق اپڈیٹ: مندرجہ ذیل میٹرو اسٹیشن 25 جولائی 2026 کو صبح 7:30 بجے سے اگلے احکامات تک بند رہیں گے۔ حالانکہ راجیو چوک، منڈی ہاؤس اور سنٹرل سکریٹریٹ پر انٹرچینج کی سہولت دستیاب رہے گی۔ مسافروں کو ہونے والی تکلیف کے لیے ہمیں افسوس ہے۔‘‘
ڈی ایم آر سی نے سیکورٹی وجوہات اور طلبہ کے احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر جن میٹرو اسٹیشنوں کو اگلے احکامات تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں لوک کلیان مارگ، راجیو چوک، پٹیل چوک، رام کرشن آشرم مارگ، باراکھمبا روڈ، سپریم کورٹ، سیوا تیرتھ، جن پتھ، منڈی ہاؤس، سنٹرل سکریٹریٹ، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، اندر پرستھ، خان مارکیٹ، زور باغ، شیواجی اسٹیڈیم، جھنڈے والان اور نئی دہلی شامل ہیں۔
