زرعی قوانین رد کرنے کے لیے مودی حکومت کو ملا 2 اکتوبر تک کا وقت!

راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’ہم دباؤ میں حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے۔ ہمارا مظاہرہ تب تک جاری رہے گا جب تک سبھی قوانین واپس نہیں لے لیے جاتے اور ایم ایس پی کو قانونی درجہ نہیں مل جاتا۔‘‘

راکیش ٹکیٹ، تصویر آئی اے این ایس
راکیش ٹکیٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف آج کسانوں کا ملک گیر چکہ جام انتہائی کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک کیے گئے چکہ جام میں کوئی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ گویا کہ کسانوں نے پرامن طریقے سے زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس درمیان بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان نے مرکز کی مودی حکومت کو 2 اکتوبر تک کا وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس تاریخ تک تینوں قوانین واپس نہیں لیے جاتے تو آگے کا منصوبہ تیار کیا جائے گا۔

میڈیا سے بات چیت کے دوران راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’ہم دباؤ میں حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے، مشروط بات چیت ہوگی۔ ہمارا مظاہرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سبھی قوانین واپس نہیں لے لیے جاتے اور ایم ایس پی کو قانونی درجہ نہیں مل جاتا۔ مطالبات پورے ہونے کے بعد ہی کسان گھر واپس جائیں گے، ورنہ دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’پورے ملک میں غیر سیاسی تحریک چلے گی اور دہلی میں ایک ایک کیل کاٹ کر اپنے گھر جائیں گے۔ حکومت جلد سبھی قانون واپس لے اور ٹریکٹر والوں کو نوٹس بھیجنے کی حرکت بند ہو۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔