پیپر لیک معاملہ میں سخت سزا والے بل کو مودی کابینہ کی ملی منظوری، 10 سال کی جیل اور 10 کروڑ روپے جرمانہ کا التزام
خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کو قانونی پشت پناہی دی جائے گی اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ 3 ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کر کے فیصلہ سنا سکیں۔

پیپر لیک تنازعہ اور طلبا کی جاری تحریک کے درمیان جمعہ کو مرکزی حکومت نے بیک وقت 2 محاذوں پر سرگرمی دکھائی ہے۔ ایک جانب وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کمیٹی آن سیکورٹی (سی سی ایس) اور کابینہ کمیٹی آن اکنامک افیئرز (سی سی ای اے) کے اجلاس کے بعد مرکزی کابینہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں ترمیم شدہ پیپر لیک بل کے مسودے پر بحث کی گئی اور اسے منظوری دے دی گئی۔ دوسری جانب کابینہ کے اجلاس میں ’پبلک اگزامنیشنز (پریوینشن آف اَن فیئر مینز) ایکٹ، 2024‘ کو مزید سخت بنانے کی تجویز پر بحث ہوئی۔ حکومت آئندہ ہفتے مانسون اجلاس کے دوران اس ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس میں پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت دفعات شامل ہوں گی۔ خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کو قانونی پشت پناہی دی جائے گی اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ 3 ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کر کے فیصلہ سنا سکیں۔ اس کے علاوہ پیپر لیک معاملے میں 10 سال کی سزا اور 10 کروڑ روپے جرمانے کی بھی تجویز ہے۔
اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ’’پیپر لیک کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے۔ یہ لاکھوں طلبا اور ان کے خاندانوں کے مستقبل سے جڑا معاملہ ہے اور حکومت قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنانے کے لیے نیا قانون لانے جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو فوری طور پر ضروری کارروائی شروع کرنے کی ہدایات بھی دی تھیں۔ اب کابینہ کی منظوری کے بعد سب کی نظریں اگلے ہفتے پارلیمنٹ کی کارروائی پر ہوں گی، جہاں اس اہم بل کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے جمعرات کو وزارت تعلیم میں ایک بڑی انتظامی تبدیلی بھی کی ہے۔ حکومت نے 1994 بیچ کے راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس افسر نریش پال گنگوار کو محکمۂ اعلیٰ تعلیم کا نیا سکریٹری مقرر کیا ہے۔ انہوں نے ونے جوشی کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
