جنتر منتر احتجاج سے پہلے نئی دہلی میں 24 گھنٹے کے لیے موبائل انٹرنیٹ بند، رات 10 بجے سے پابندی نافذ

نئی دہلی میں جَنتر منتر پر 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے 4 کلومیٹر کے دائرے میں 24 گھنٹے کے لیے موبائل انٹرنیٹ بند رہے گا۔ سپریم کورٹ نے میٹرو اور ٹرین خدمات مکمل بند کرنے پر اعتراض کیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر 10 اکتوبر کو ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے پہلے نئی دہلی کے مخصوص علاقے میں 24 گھنٹے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد جاری حکم کے مطابق یہ پابندی 9 اکتوبر کی رات 10 بجے سے 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک نافذ رہے گی۔

حکم کے تحت جن پتھ اور کرتویہ پتھ کے چوراہے کے آس پاس تقریباً 4 کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بند رہیں گی۔ یہ پابندی موبائل انٹرنیٹ کی تمام ٹیکنالوجیز پر لاگو ہوگی، جب کہ دہلی کے دیگر علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

وزارت داخلہ نے عارضی طور پر انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کی منظوری دی ہے۔ دہلی پولیس نے ایئرٹیل، ووڈافون آئیڈیا، جیو اور ایم ٹی این ایل سمیت متعلقہ ٹیلی کام کمپنیوں کو حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ یہ کارروائی ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023 اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی معطلی سے متعلق قواعد 2024 کے تحت کی گئی ہے۔


دریں اثنا، سپریم کورٹ نے 10 اکتوبر کو مجوزہ احتجاج کے پیش نظر دہلی میں میٹرو خدمات بند کرنے اور کئی ٹرینیں منسوخ کرنے کے معاملے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ احتجاج کے خدشے کی بنیاد پر میٹرو اور ریلوے خدمات کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے، جس میں جسٹس جوی مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل ہیں، حکام کو ہدایت دی کہ عوامی خدمات کو کنٹرول شدہ انداز میں جاری رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، تاکہ عام لوگوں کو غیر ضروری پریشانی نہ ہو۔

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکام مجوزہ احتجاج کے پیش نظر عائد پابندیوں پر دوبارہ غور کریں گے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ احتجاج کے پیش نظر بعض میٹرو اسٹیشنوں سے ٹرینوں اور دیگر ریلوے خدمات کو مکمل طور پر روکنا مناسب اور متناسب قدم ہے یا نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ آمد و رفت پر مکمل پابندی اور خدمات کو احتیاط کے ساتھ کنٹرول کرکے جاری رکھنے میں فرق ہے۔

بنچ نے حکام کو ہدایت دی کہ احتیاطی اقدامات کرتے وقت تناسب کے اصول کو مدنظر رکھا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ میٹرو خدمات کے کنٹرول شدہ آپریشن سے متعلق فیصلے کی مناسب تشہیر کی جائے، تاکہ مسافروں کو بروقت معلومات مل سکیں۔ جَنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے دوران ووٹ چوری کے الزامات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مطالبات اہم موضوعات ہوں گے۔ تاہم، موبائل انٹرنیٹ کی معطلی اور میٹرو و ٹرین خدمات سے متعلق اقدامات الگ الگ فیصلوں کے تحت کیے گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔