دودھ میں ملاوٹ کی چھان بین تیز، آندھرا پردیش میں 4 لوگوں کی موت، 7 کی حالت نازک
سنسنی خیز معاملے سے وابستہ حکام کے مطابق دودھ 16 فروری کو گھروں تک پہنچایا گیا تھا چونکہ کچھ لوگوں میں علامات دیرسے بھی ظاہر ہوسکتی ہیں، اس لیے متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹروں کو 24 گھنٹے تعینات کیا گیا ہے۔

تہواروں کے موسم میں ایک بار پھرملاوٹ خوروں کے ذریعہ صارفین کی ۡجان کو خطرے میں ڈالنے کے واقعات سامنے آنے لگے ہیں۔ تازہ معاملہ آندھرا پردیش کے راجمندری میں پیش آیا ہے جہاں ملاوٹی دودھ پینے سے بیمار ہونے والے 4 لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ 7 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ ریاستی محکمہ صحت اورخاندانی بہبود کے کمشنر ویراپانڈین نے منگل کو بتایا کہ اس معاملے میں 15افراد مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ ان میں سے 3 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں، 2 ڈائیلاسز پر ہیں اور3 وینٹی لیٹر ڈائلیسس سپورٹ پر ہیں۔ زیرعلاج مریضوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں جن میں ایک 5 ماہ کا شیرخوار بھی شامل ہے۔
خبروں کے مطابق منگل کو کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ کمشنرنے کہا کہ اسپتال میں داخل تمام مریضوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سینئرنیفرولوجسٹ رویراج کے مشورے پر گردے کی فعالیت کو تیزی سے بہتر کرنے والی کچھ خاص دوائیں، جو یہاں دستیاب نہیں تھیں، چنئی اور ممبئی سے درآمد کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق دودھ 16 فروری کو گھروں تک پہنچایا گیا تھا چونکہ کچھ لوگوں میں علامات دیرسے بھی ظاہر ہوسکتی ہیں، اس لیے متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹروں کو 24 گھنٹے تعینات کیا گیا ہے۔ یہ انتظام اگلے ایک ماہ تک جاری رہے گا۔
ایک ہی دکاندار سے دودھ خریدنے والے 110 خاندانوں کے 315 افراد کے خون کے نمونے لیے گئے۔ ان میں سے دو افراد میں کریٹینائن کی سطح زیادہ پائی گئی جبکہ ایک میں مشتبہ علامات پائی گئیں۔ تینوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور فی الحال ان کی حالت مستحکم ہے۔ ویراپنڈین نے بتایا کہ ابھی تک دودھ میں یوریا کا کوئی نشان نہیں ملا ہے۔ انہوں نے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دودھ میں یوریا ملایا بھی گیا ہو تو گردے یا جگر کی خرابی جیسے سنگین مسائل فوری طور پر پیدا نہیں ہوتے بلکہ طویل مدت تک استعمال کے بعد اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف پریونٹیو میڈیسن (فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ) کے ڈائرکٹر نیلکانتھ ریڈی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دودھ کو ٹھنڈا رکھنے والی مشین میں کولنٹ کے طور پر استعمال ہونے والا ایتھیلین گلائکول لیک ہوگیا تھا۔ براہ راست دودھ کے نمونے دستیاب نہیں تھے تاہم دہی، پنیر، گھی اور کریم کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں۔ پانی کے نمونوں کی رپورٹس بدھ اور ہفتہ کے درمیان مرحلہ وار متوقع ہیں۔ حکام کو امید ہے کہ یہ رپورٹس ملاوٹ کے ذرائع کے حوالے سے وضاحت فراہم کریں گی۔ دودھ بیچنے والا پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہے اور اس سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر تفتیش جاری ہے۔ دودھ کے ذخیرہ میں ایتھیلین گلائکول کے استعمال اور اس سے متعلقہ پہلوؤں کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔ دودھ کولنگ مشین ٹھیک کرنے والے مکینک سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔