محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں ’آرٹیکل 370‘ کی بحالی کے لیے 5 اگست کو مظاہرہ کرنے کا کیا اعلان
جموں و کشمیر میں 5 اگست کو مظاہرہ کرنے سے متعلق فیصلہ سری نگر میں پی ڈی پی ہیڈکوارٹر میں محبوبہ مفتی کی صدارت میں ہوئی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد لیا گیا۔

جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے اور ریاست کو مرکز کے زیر انتظام 2 خطوں میں تقسیم کرنے کی آٹھویں برسی کے موقع پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے پارٹی لیڈروں کو ایک خاص حکم صادر کیا ہے۔ انھوں نے 5 اگست کو پورے جموں و کشمیر میں ضلعی سطح پر پُرامن احتجاج کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں کا مقصد آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرنا ہے۔
یہ فیصلہ سری نگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں محبوبہ مفتی کی صدارت میں ہوئی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد لیا گیا۔ اس میٹنگ میں پورے کشمیر کے تمام ضلعی صدور کے ساتھ ساتھ پارٹی کے مرکزی، خواتین اور یوتھ ونگ کے لیڈران بھی شامل ہوئے، تاکہ زمینی سطح پر ہونے والے احتجاج کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔
اس ہدایت کا مقصد حکمراں نیشنل کانفرنس سے سیاسی طور پر الگ شناخت قائم کرنا ہے، کیونکہ محبوبہ مفتی کے مطابق صرف ریاست کا درجہ (اسٹیٹ ہڈ) واپس حاصل کرنے کا مطالبہ کرنے سے بنیادی جدوجہد کمزور پڑ جاتی ہے۔ پی ڈی پی صدر نے پارٹی لیڈروں سے زور دے کر کہا کہ احتجاج کا بنیادی مرکز 2019 میں چھینے گئے خصوصی درجے، شناخت اور آئینی ضمانتوں کی بحالی ہونا چاہیے۔ ضلعی سطح پر احتجاج کا شیڈول پی ڈی پی کے 27ویں یوم تاسیس پر اعلان کیا گیا، جس کے دوران ایک باضابطہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔
اس قرارداد میں بات چیت کے ذریعہ ’عزت کے ساتھ امن‘ کے لیے جدوجہد کرنے، کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے اور پیر پنجال و چناب جیسے علاقوں میں ایڈمنسٹریٹو انصاف یقینی بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ ضلعی سربراہوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر لوگوں تک اپنی رسائی بڑھائیں اور یہ یقینی بنائیں کہ احتجاج میں عام لوگوں کی بڑے پیمانے پر شرکت ہو، تاکہ 2019 میں لیے گئے فیصلے سے متعلق عوام کی متحدہ مخالفت کا اظہار کیا جا سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
