صرف ادب میں انسان کی ذہنی کیفیت کی عکاسی کھل کر ہوتی ہے: خالد جاوید
خالد جاوید نے اپنے خاص انداز میں سامعین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جسم کے جن اعضا کا استعمال ہم کھانا کھانے کے لیے کرتے ہیں وہی اعضا بولنے میں بھی کام آتے ہیں۔

ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام منعقدہ سالانہ کتاب میلے ’پستکاین‘ کے آخری دن ’اپنے پسندیدہ ادیب سے ملئے‘ پروگرام میں اردو کے ممتاز فکشن نگار پروفیسر خالد جاوید، ہندی کی ممتاز کہانی کار مہوا موئترا اوراکادی انعام یافتہ پنجابی ادیب بلدیو سنگھ نے اپنی ادبی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ پروفیسر خالد جاوید نے بتایاکہ ادبی ماحول میں انھوں نے اپنا بچپن گزارا۔ جب انھوں نے ہوش سنبھالا تو اپنے گھر میں اجتماعی طور پر گھر کے تمام افراد کے بیچ اہم ماہناموں سے کہانیاں سنیں۔ جب وہ سات آٹھ سال کے تھے تو لکھنا شروع کردیا تھا۔
تصنیف کے تئیں وہ بچپن سے ہی ایک خارجی جبر کو اپنے اندر محسوس کررہے تھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ کالج میں گئے تو مختلف علوم میں انسان کو تلاشتے رہے لیکن انھوں نے انسان کو انسان کی شکل میں صرف ادب میں ہی پایا جہاں انسان کی ذہنی کیفیت کی عکاسی کھل کر ہوسکتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اُن کے اوپر ڈارک لکھنے کا الزام لگایا گیا۔ اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ روشنی کا فائدہ تبھی ہے جب اندھیرے کا علم ہو اور یہ اندھیرا روشنی سے ہی دور ہوتا ہے اس لیے انھوں نے زندگی کے اُن تاریک پہلوؤں کو اُجاگر کرنا ضروری سمجھا جو زندگی کو روشن بنانے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
گندگی تو ہر جگہ موجود ہے لیکن اُسے صاف کرنے کا طریقہ سوچنا ضروری ہے۔ اُنھوں نے اپنے خاص انداز میں سامعین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جسم کے جن اعضا کا استعمال ہم کھانا کھانے کے لیے کرتے ہیں وہی اعضا بولنے میں بھی کام آتے ہیں۔ یعنی بھوک کا رشتہ کلام سے بہت گہرا ہے اور یہیں سے ہمیں بھوک کو ایک زبان کے طور پرسمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
انھوں نے اپنے مشہور ناول ’نعمت خانہ‘ کے حوالے سے بھرپور گفتگو کی اور کہا کہ غریب اور امیر کے نعمت خانہ کا نام تو ایک ہی ہوتا ہے مگر اس میں موجود اشیا مختلف ہوتی ہیں جس سے ہم امیری اور غریبی کے فرق کو سمجھ پاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس مشہور زمانہ ناول میں کیچن سے متعلق مختلف استعارات کا بخوبی استعمال کیا گیا ہے اور کیسے کیچن پر قبضہ کی لڑائی ہر گھر میں عام ہے اس کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ 2014 میں جب اُن کا یہ ناول شائع ہوا تو اس کی کوئی خاص پذیرائی نہیں ہوئی، حتیٰ کہ تبصرے بھی زیادہ نہیں ہوئے لیکن جب اُس کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا تو اچانک اس کی مقبولیت میں خاطرخواہ اضافہ ہوا اور جے سیبی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، اس سے ترجمہ کی اہمیت و افادیت کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
آج کے دوسرے شرکا میں ہندی کی ممتاز ادیبہ مہوا موئترا نے بتایا کہ انھوں نے کیسے آدیواسی زندگی کو اپنی تصنیف کا موضوع بنایا۔ یورینیم کے کان کنی کے دوران نکالے گئے خام پتھروں کو آدیواسی بستیوں کے قریب رکھے ہونے سے اُن پرہورہے خطرناک اثرات کو انھوں نے محسوس کیا اور اس سے آدیواسی لوگوں کو آگاہ کیا اور انھیں بچایا۔ ساتھ ہی انھوں نے اس موضوع کو اپنے ناول کا موضوع بھی بنایا۔ مشہور و معروف پنجابی ادیب بلدیو سنگھ نے اپنی تصنیفی زندگی کو بہت باریکی سے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے ٹرک ڈرائیور کا کام کرتے ہوئے وہ تصنیف کی طرف راغب ہوئے اور ساہتیہ اکادمی انعام جیسے مؤقر انعامات سے نوازے گئے۔
معلوم ہوکہ ساہتیہ اکادمی کے ذریعہ منعقدہ نوروزہ کتاب میلے کا کل آخری دن تھا جس میں دیگر دو اور تقاریب کا انعقاد کیاگیا۔ کتاب میلے میں شائقین کتب نے پرجوش طریقے سے حصہ لیا۔ کل کے اس تقریب میں کئی اہم شخصیات موجود رہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
