پٹنہ میں میڈیکل طلبہ پر لاٹھی چارج، سیشن اور نتائج میں تاخیر کے خلاف احتجاج؛ گیانیش کمار کے خلاف بھی مظاہرہ

پٹنہ میں بی یو ایچ ایس کے میڈیکل طلبہ نے سیشن، نتائج اور دیگر مسائل کے حل کے لیے احتجاج کیا، جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ اسی دوران گیانیش کمار کے خلاف بھی احتجاج اور واٹر کینن کا استعمال ہوا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

پٹنہ میں بہار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (بی یو ایچ ایس) کے میڈیکل طلبہ نے اپنی مختلف مطالبات کو لے کر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا تعلیمی سیشن باقاعدگی سے نہیں چل رہا، امتحانات کے نتائج میں تاخیر ہو رہی ہے اور طلبہ کو دیگر مسائل کا بھی سامنا ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس نے طلبہ کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جس میں بعض طلبہ نے زخمی ہونے کا الزام لگایا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، پٹنہ میں بی یو ایچ ایس کے میڈیکل طلبہ اپنے مطالبات کے حق میں سڑک پر احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین سیشن کو باقاعدہ کرنے، نتائج بروقت جاری کرنے اور یونیورسٹی سے متعلق دیگر مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی اور اس دوران لاٹھی چارج کیا گیا۔

طلبہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ پولیس کارروائی میں کچھ طلبہ کو چوٹیں بھی آئیں۔ تاہم، پولیس کارروائی کے حوالے سے طلبہ کے ان الزامات کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ پٹنہ میں اسی روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بھی احتجاج کیا گیا۔ بائیں بازو کی جماعتوں سے وابستہ کارکنوں نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔

گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے اندرونی فیصلوں اور اختلافات سے متعلق تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض فیصلوں پر تحریری اعتراضات درج کیے۔


رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض معاملات میں دونوں الیکشن کمشنروں کو فیصلوں کے عمل سے پوری طرح آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ان اعتراضات میں نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے اور انتخابی ڈیٹا کے انتظام سے متعلق امور بھی شامل تھے۔

ان الزامات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے گیانیش کمار کے کردار اور الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھائے ہیں اور ان کے استعفے یا عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مختلف شہروں میں اس معاملے پر احتجاج بھی کیے گئے ہیں۔

تاہم، الیکشن کمیشن نے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کمیشن کے تمام فیصلے مکمل کمیشن کے متفقہ فیصلوں کے نتیجے میں کیے گئے ہیں۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ اندرونی غور و خوض کے دوران مختلف ارکان کی جانب سے مختلف آرا یا اعتراضات سامنے آنا فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہے۔

یوں پٹنہ میں ایک ہی دن طلبہ کے تعلیمی مطالبات اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سیاسی احتجاج، دونوں نے شہر میں احتجاجی سرگرمیوں کو نمایاں کر دیا۔