مایاوتی کا ای وی ایم پر سوال، کہا- ’بی جے پی نے نگینہ سے چندرشیکھر کو جتوانے کے لیے دھاندلی کی‘
مایاوتی نے ای وی ایم کا استعمال فوری بند کر کے بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے نگیینہ میں ای وی ایم میں دھاندلی کر کے چندرشیکھر آزاد کو جتوایا

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور اترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے ایک بار پھر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعے انتخابات کرانے پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ای وی ایم کا استعمال فوری طور پر بند کرکے بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کا عمل بحال کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بی ایس پی کو نقصان پہنچانے کی سازش کے تحت ای وی ایم میں دھاندلی کر کے نگینہ لوک سبھا سیٹ سے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے سربراہ چندرشیکھر آزاد کو کامیاب کرایا تھا۔
لکھنؤ میں پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات پر عوام کا اعتماد دوبارہ بحال کرنے کے لیے ای وی ایم سے انتخابات فوری طور پر بند کیے جانے چاہئیں اور اس کی جگہ بیلٹ پیپر سے ووٹنگ شروع کی جانی چاہیے۔
انہوں نے انتخابی عمل پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اٹھائے جا رہے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستوں کے خصوصی گہرائی سے نظرثانی (ایس آئی آر) سمیت انتخابات سے متعلق مختلف معاملات پر پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو الیکشن کمیشن کو بروقت دور کرنا چاہیے، تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
مایاوتی نے دعویٰ کیا کہ ای وی ایم کو ریموٹ طریقے سے متاثر کیے جانے کے خدشات کے باعث ووٹروں کو یہ یقین دلانا مشکل ہے کہ ان کا ووٹ اسی امیدوار کے حق میں شمار ہوا ہے جسے انہوں نے ووٹ دیا تھا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بی ایس پی شروع سے ہی ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کی مخالفت کرتی رہی ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے نگینہ لوک سبھا حلقے سے چندرشیکھر آزاد کی 2024 میں ہوئی کامیابی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے بی ایس پی کو نقصان پہنچانے کے لیے ای وی ایم میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے چندرشیکھر کو کامیاب کرایا۔
مایاوتی نے چندرشیکھر کے سیاسی اثر و رسوخ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نگینہ میں ان کا کوئی مضبوط عوامی بنیاد نہیں تھی، اس کے باوجود انہیں کامیاب کرایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ چندرشیکھر بی جے پی کے اشارے پر کام کرتے ہیں اور جہاں دلتوں کے خلاف مبینہ ظلم یا ناانصافی کا معاملہ سامنے آتا ہے، وہاں احتجاج اور دھرنے کے ذریعے نوجوانوں کو آگے کرتے ہیں۔
مایاوتی نے دلت نوجوانوں کو چندرشیکھر کے مبینہ سیاسی طریقۂ کار سے محتاط رہنے کی اپیل بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران نوجوانوں پر مقدمات درج ہونے کی صورت میں انہیں مستقبل میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
مایاوتی نے ای وی ایم کے معاملے میں بی جے پی کے ماضی کے مؤقف کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی تو بی جے پی خود ای وی ایم کے ذریعے انتخابات کی مخالفت کرتی تھی اور مشین کی چپ میں چھیڑ چھاڑ کا خدشہ ظاہر کرتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بی ایس پی نے بھی ای وی ایم سے متعلق انتخابی عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس کے بعد وی وی پی اے ٹی کا نظام متعارف کرایا گیا۔ تاہم مایاوتی کا کہنا تھا کہ تمام وی وی پی اے ٹی پرچیوں کی گنتی نہ ہونے کی وجہ سے ای وی ایم کے نتائج سے مکمل طور پر موازنہ نہیں ہو پاتا۔ مایاوتی نے کہا کہ مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد بی جے پی نے ای وی ایم کا استعمال ختم کرنے کے بجائے اسی نظام کے تحت ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری رکھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
