مایاوتی نے اپنے بھتیجے آکاش آنند کو بتایا نادان، اتر پردیش میں نہیں دی کوئی ذمہ داری

مایاوتی نے کہا کہ ’’کانشی رام نے اپنے خاندان کو صرف پارٹی میں کام کرنے کی اجازت دی، انہیں الیکشن لڑانے یا تنظیم میں عہدہ دینے کے خلاف تھے۔‘‘ انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے اپنے بھتیجے آکاش آنند سے متعلق اہم فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے آکاش آنند کو پارٹی کی بڑی ذمہ داریوں سے دور رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ آکاش میں ابھی سیاسی طور پر مزید پختگی کی ضرورت ہے۔ انہیں فی الحال صرف پارٹی میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مایاوتی کے اس فیصلے کے بعد آکاش آنند نے بھی اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ میں تبدیلی کی ہے۔ پہلے وہ خود کو قومی کنوینر لکھتے تھے، وہیں اب انہوں نے اپنی شناخت بی ایس پی کارکن کے طور پر کرائی ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سے آکاش آنند کے حمایتی مایوس ہیں۔

لکھنؤ میں پارٹی کی آل انڈیا سطح کی اہم میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے مایاوتی نے پارٹی کو مضبوط کرنے اور اہم مسائل پر پارٹی کا موقف واضح کرنے کے تعلق سے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے گزشتہ کاموں کا جائزہ لیا اور سبھی عہدیداران کو اپنی کمیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی پوری ایمانداری کے ساتھ پارٹی کے رہنما اصولوں پر عمل کرنے کو کہا۔ آکاش آنند کو لے کر مایاوتی نے کانشی رام کے اصولوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانشی رام نے اپنے خاندان کو صرف پارٹی میں کام کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن انہیں الیکشن لڑانے یا تنظیم میں عہدہ دینے کے خلاف تھے۔ مایاوتی نے کہا کہ وہ بھی اسی عزم پر گامزن ہیں۔


مایاوتی کا کہنا ہے کہ آکاش کو ابھی مزید سیاسی پختگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مخالف جماعتیں سام، دام، دنڈ، بھید جیسے حربے استعمال کرکے پارٹی کو انتخابی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس لیے فی الحال آکاش کو بڑی ذمہ داری سے دور رکھا گیا ہے۔ میٹنگ میں مایاوتی نے بہوجن تحریک کے مقصد کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ استحصال کا شکار طبقے کو حکمران طبقہ بنانا ہی بہوجن موومنٹ کا بنیادی مقصد ہے اور اس کے لیے اقتدار حاصل کرنا ضروری ہے۔

آکاش آنند کو لے کر مایاوتی پہلے بھی کئی بار سخت فیصلے لے چکی ہیں۔ 7 مئی 2024 کو انہوں نے آکاش آنند کو بی ایس پی کے نیشنل کوآرڈینیٹر اور اپنا سیاسی جانشین کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ مایاوتی نے اس وقت آکاش میں سیاسی پختگی کی کمی کا حوالہ دیا تھا۔ حالانکہ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد 23 جون 2024 کو لوک سبھا انتخابات کے بعد انہوں نے آکاش کو دوبارہ نیشنل کوآرڈینیٹر اور اپنا جانشین بنا دیا۔ اس کے بعد 2 مارچ 2025 کو مایاوتی نے آکاش کو نیشنل کوآرڈینیٹر سمیت سبھی عہدوں سے ہٹا دیا اور اگلے دن 3 مارچ کو انہیں پارٹی سے بھی برخواست کردیا۔ حالانکہ اپریل 2025 میں آکاش کی دوبارہ بی ایس پی میں واپسی ہوئی۔ آکاش نے مایاوتی کو اپنا سیاسی گرو اور مشعل راہ بتاتے ہوئے عوامی طور پر معافی مانگی تھی۔


جس کے بعد مایاوتی نے انہیں ایک اور موقع دیا۔ اس کے بعد 18 مئی 2025 کو انہیں بی ایس پی کے چیف نیشنل کوآرڈینیٹر جیسی بڑی تنظیمی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی۔ اب 3 ستمبر 2026 کو مایاوتی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ آکاش کو ابھی مزید تجربہ کار بننے کی ضرورت ہے اور فی الحال انہیں بڑی ذمہ داری نہیں دی جائے گی۔ اس طرح آکاش آنند کو لے کر مایاوتی کا موقف پہلے بھی کئی بار بدلا ہے، جہاں سخت کارروائی کے بعد انہیں دوبارہ پارٹی میں اہم ذمہ داریاں دی گئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔