ترون کے قتل پر غم، مگر اس کی آڑ میں مسلمانوں پر حملے اور بلڈوزر کارروائی قابلِ تشویش: مولانا محمد قاسم نوری

جمعیۃ علماء دہلی کے صدر مولانا قاسم نوری قاسمی نے ترون کے قتل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور بلڈوزر کارروائی کرنا قانون اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرناک ہے

<div class="paragraphs"><p>جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے اتم نگر دہلی میں ترون نامی نوجوان کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کو بنیاد بنا کر جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بلڈوزر کارروائی کی جا رہی ہے، وہ ملک کے قانون اور سماجی ہم آہنگی دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بے گناہ انسان کے قتل پر ہر حساس دل کو دکھ ہوتا ہے اور ترون کے قتل پر بھی گہرا افسوس ہے لیکن اس واقعے کی آڑ میں کسی ایک برادری کو نشانہ بنانا ملک اور سماج کو تقسیم کرنے والا عمل ہے۔

مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے کہا کہ ترون کا قتل ایک باہمی جھگڑے کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے لیکن اس واقعے کے بعد جو ماحول بنایا جا رہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق ملک میں پھیلائی جا رہی فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست نے پہلے ہی سماجی تانے بانے کو کمزور کیا ہے، اور ایسے واقعات کو استعمال کر کے مزید کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی جرم میں کوئی شخص ملوث ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں اور عدالت کے ذریعے انصاف فراہم کیا جائے۔ لیکن اگر انصاف کے بجائے فوری کارروائی کے نام پر انکاؤنٹر، اجتماعی سزا یا غیر قانونی بلڈوزر کارروائی کو فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف قانون کی روح کے خلاف ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔


مولانا قاسم نوری قاسمی نے کہا کہ اتم نگر میں بلڈوزر کارروائی کے حوالے سے جو خبریں سامنے آ رہی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی شہری کی ملکیت کو مسمار کرنے سے پہلے قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کم از کم پندرہ دن کا نوٹس دینا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بغیر نوٹس کے اس طرح کی کارروائی کی جاتی ہے تو یہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی تاکہ انتظامیہ کو یہ واضح ہو کہ قانون سے بالاتر ہو کر کسی کے گھر یا دکان کو مسمار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق قانون کی حکمرانی ہی جمہوری نظام کی بنیاد ہے اور اس سے انحراف ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے اس موقع پر ترون کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خاندان کے لیے اپنے نوجوان فرد کو کھونا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے اور جمعیۃ علماء اس غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترون کی موت کو بنیاد بنا کر دو برادریوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوششیں قابل اعتراض ہیں اور ذمہ دار شہریوں کو ایسی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہلی پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ انداز میں امن و قانون کو برقرار رکھے اور ایسے حالات پیدا نہ ہونے دے جن سے معاشرے میں مزید کشیدگی بڑھے۔ ان کے مطابق حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔