چنڈی گڑھ میں سکھ قیدیوں کی رہائی کے لیے زبردست احتجاج، واٹر کینن اور آنسو گیس کے بعد مظاہرین کا پولیس پر پتھراؤ

’قومی انصاف مورچہ‘ کے پنجاب گورنر ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کے معاملے پر جگتار سنگھ ہوارا کے والد باپو گُرچرن سنگھ نے کہا کہ ’’جمہوریت میں پرامن احتجاج ہمارا بنیادی حق ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i

چنڈی گڑھ پولیس نے چنڈی گڑھ-موہالی بارڈر پر سکھ قیدیوں (بندی سکھوں) کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ’قومی انصاف مورچہ‘ کے اراکین پر واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ پنجاب کے موہالی میں سکھ قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کو لے کر ’قومی انصاف مورچہ‘ کے تقریباً 2000 مظاہرین جمع ہیں۔

واضح رہے کہ چنڈی گڑھ پولیس کے کچھ جوانوں کو دھات سے بنی جالی دار پوشاک پہنائی گئی ہے تاکہ پولیس اہلکاروں کو دھار دار ہتھیاروں کے وار سے بچایا جا سکے۔ مظاہرین نے چنڈی گڑھ میں واقع لوک بھون کی طرف مارچ کا اعلان کیا۔ دوپہر 12:30 بجے موہالی سے چنڈی گڑھ کی طرف کوچ کرنے کا وقت طے کیا گیا تھا۔ مظاہرین کے چنڈی گڑھ کوچ کو دیکھتے ہوئے پنجاب اور چنڈی گڑھ کو جوڑنے والی سڑکوں پر پولیس نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔


موہالی بیریر پر بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ مظاہرین کو روکنے کے دوران پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور پانی کی بوچھار بھی کی۔ دوسری جانب ’قومی انصاف مورچہ‘ کے مظاہرین چنڈی گڑھ جانے کے مطالبے پر بضد ہیں۔ پولیس نے صاف وارننگ دی ہے کہ اگر مظاہرین نے موہالی بیریر پر بیریکیڈنگ توڑنے کی کوشش کی تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ انتظامیہ کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی کے انتظامات مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔

’قومی انصاف مورچہ‘ کے پنجاب گورنر ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کے معاملے پر جگتار سنگھ ہوارا کے والد باپو گُرچرن سنگھ نے کہا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج ہمارا بنیادی حق ہے۔ ہم 3 سال سے زیادہ عرصے سے یہاں امن و امان کے ساتھ بیٹھے ہیں لیکن حکومت ہمیں انصاف دینے کو تیار نہیں ہے۔ اسی لیے یوم آزادی کے دن ہم نے کالے جھنڈے لے کر پرامن مارچ اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ہمارا مقصد پوری طرح پرامن ہے لیکن ہمیں لگتا ہے کہ حکومت اس پرامن احتجاج میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔


گُرچرن سنگھ نے مزید کہا کہ ہم نے کبھی بیریکیڈ نہیں توڑے، ہم پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن بلاوجہ کی بیریکیڈنگ سے تناؤ پیدا ہو رہا ہے اور ہمیں ایسی صورتحال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جو ہم نہیں چاہتے۔ ہمارا بنیادی مطالبہ حراست میں لیے گئے سکھوں کی رہائی ہے، ابھی ہم ان میں سے ایک کے لیے 10 دن کی پیرول کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ماں سے مل سکے جو طویل عرصے سے شدید بیمار اور بستر پر ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق مظاہرین جن سکھ قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان میں جگتار سنگھ ہوارا، بلونت سنگھ راجوانا، جگتار سنگھ تارا، پرمجیت سنگھ بھیورا، دیویندرپال سنگھ بھلر، گُردیپ سنگھ کھیڑا، لکھوندر سنگھ لکھا، گُرمیت سنگھ اور شمشیر سنگھ کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر دہشت گردی اور قتل جیسے سنگین معاملات میں طویل عرصے سے جیلوں میں بند ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد اپنی طے شدہ سزا پوری کر چکے ہیں، اس لیے انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔