منی پور تشدد: امن کا مطالبہ لے کر وزیر اعلیٰ کی رہائش گھیرنے نکلے ہزاروں افراد، پولیس نے داغے آنسو گیس کے گولے

منی پور کی سالمیت کے لیے کام کرنے والی ’سی او سی او ایم آئی‘ کی اپیل پر ہزاروں لوگ سڑکوں پر اترے۔ یہ مظاہرین شہر کے مختلف حصوں سے 4 الگ الگ ریلیوں کی شکل میں وزیر اعلیٰ رہائش کی طرف بڑھے۔

<div class="paragraphs"><p>منی پور تشدد کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

منی پور میں تشدد تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہفتہ کے روز ریاست کی راجدھانی امپھال میں مستقل امن کا مطالبہ لے کر وزیر اعلیٰ رہائش کی طرف بڑھ رہے ہزاروں مظاہرین کا پولیس کے ساتھ تصادم ہو گیا۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے سیکورٹی فورسز کو آنسو گیس کے گولے چھوڑنے پڑے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ ’میتئی تنظیم کوآرڈنیٹنگ کمیٹی آن منی پور انٹگریٹی‘ کے بینر تلے منعقد کیا گیا تھا۔

آج منی پور کی سالمیت کے لیے کام کرنے والی ’سی او سی او ایم آئی‘ کی اپیل پر ہزاروں لوگ سڑکوں پر اترے۔ یہ مظاہرین شہر کے مختلف حصوں سے 4 الگ الگ ریلیوں کی شکل میں وزیر اعلیٰ رہائش کی طرف بڑھ رہے تھے، حالانکہ پولیس اور اضافی سیکورٹی فورسز نے پہلے سے ہی بابوپاڑا واقع وزیر اعلیٰ رہائش کے چاروں طرف سیکورٹی کا سخت پہرہ لگا دیا تھا۔ کیسامپت جنکشن، کانگلا گیٹ، کوننگ ممانگ اور موئرانگ کھونگ جیسے اہم مقامات پر زبردست بیریکیڈنگ کی گئی تھی۔ افسران کے مطابق جب بھیڑ نے امپھال مشرق ضلع کے کھورئی لاملونگ علاقہ میں بیریکیڈس توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی، تو پولیس نے انھیں روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔ یہ علاقہ وزیر اعلیٰ کی رہائش سے محض 2 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔


احتجاجی مظاہرہ میں شامل لوگ ہاتھوں میں تختیاں اور بینر لیے ہوئے تھے۔ ان کے اہم مطالبات میں بشنوپور ضلع میں حال ہی میں ہوئے بم دھماکہ میں ہلاک 2 معصوم بچوں کے لیے انصاف کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ نسلی تشدد کے سبب نقل مکانی کو مجبور ہوئے ہزاروں لوگوں کی فوری بازآبادکاری کی جائے۔ مظاہرین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ 3 مئی 2023 سے شروع ہوئے بحران کے باوجود ابھی تک کوئی ٹھوس حل نہیں نکالا گیا ہے۔

بہرحال، آج کافی ہنگامہ اور تصادم کے بعد مظاہرین کے ایک نمائندہ وفد کو وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ ملاقات کے بعد سی او سی او ایم آئی کے کنوینر وائی دھیرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے وزیر اعلیٰ کو اپنے مطالبات پر مبنی عرضداشت پیش کر دیا ہے۔ دھیرین نے الزام عائد کیا کہ سیاسی عزائم کی کمی اور الگ الگ بیانیے کے سبب امن کوششوں میں رخنہ پیدا ہو رہا ہے۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر جلد کارروائی نہیں کی تو تحریک کو مزید تیزی عطا کی جائے گی۔


سی او سی او ایم آئی ترجمان نہکپم شانتا سنگھ نے بتایا کہ انھوں نے 7 اپریل کو ٹرونگلاؤبی میں ہوئے بم دھماکہ کی کارروائی رپورٹ طلب کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان سوالات کے جواب دینے میں ناکام رہتی ہے تو وہ جمہوری طریقے سے احتجاج کے دیگر راستے اختیار کریں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔