منی پور: عسکریت پسندوں کے خلاف سیکورٹی فورسیز کی بڑی کارروائی، 23 بنکر تباہ، 18 آئی ای ڈی برآمد

سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ریاست میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی ہتھیاروں اور ڈھانچوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>منی پور میں سیکورٹی اہلکار(فائل فوٹو)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

منی پور میں جاری کشیدگی کے درمیان سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے اکھرول ضلع میں 23 غیر قانونی بنکروں کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسیز نے ضلع ٹینگنوپل سے 18 آئی ای ڈی بھی برآمد کئے ہیں۔ ہفتے کو جاری کردہ ایک بیان میں پولیس نے کہا کہ یہ کارروائی منگل کو مختلف حساس علاقوں میں کی گئی۔ بیان کے مطابق سیکورٹی فورسز نے گزشتہ جمعرات کو لٹن پولیس اسٹیشن کی حدود میں مونگ کوٹ چیپو، شونگ فیل، ملام، سراراکھونگ اور رنگو کے پہاڑی گاؤں میں بنکر تباہ کئے جن میں 12 بور کی ایک پمپ ایکشن شاٹ گن، 17 کارتوس اور 111 شیل شامل ہیں۔

وہیں ایک الگ کارروائی میں سیکورٹی فورسز نے ٹینگنوپل ضلع کے مورہ پولیس اسٹیشن کے تحت ٹی بونگمول گاؤں میں ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا ذخیرہ ضبط کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ دو سنگل بیرل رائفل، میگزین کے ساتھ چار 9 ایم ایم پستول اور 18 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) قبضے میں لیے گئے۔ ان دھماکہ خیز مواد کو احتیاط کے ساتھ موقع پر ہی تباہ کر دیا گیا۔


 قبل ازیں سیکورٹی فورسز نے وسیع تلاشی کارروائیاں کیں اور کانگ پوکپی اور اکھرول اضلاع میں 12 غیر قانونی بنکروں کو تباہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق کانگ پوکپی ضلع کے سائکول تھانہ کے علاقے میں لنگٹر ہل پر 3 غیر قانونی بنکر اور ٹنگپبنگ اور لیپلن گاؤں میں ایک ایک بنکر تباہ کر دیے گئے۔ اکھرول ضلع کے لٹن تھانے کے علاقے میں سیکورٹی فورسز نے7 دیگر بنکروں کو بھی تباہ کر دیا۔ یہ تمام بنکر اونچائی والے اور غیر محفوظ علاقوں میں بنائے گئے تھے اور انہیں حملوں اور جوابی حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

یہ غیر قانونی بنکر فروری میں شروع ہونے والے تشدد کے بعد کوکی اور ٹنگ کھول ناگا کمیونٹیز کے مسلح گروپوں نے بنائے تھے۔ دونوں برادریوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعہ نے علاقے کی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ اکھرول ضلع میں تنگ کھول ناگا اور کوکی برادریوں کے درمیان تشدد شروع ہونے کے بعد سے فائرنگ کے مختلف واقعات میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور 30 ​​سے ​​زائد مکانات نذر آتش کر دیے گئے تھے۔ اکھرول، کم جونگ اور کانگ پوکپی اضلاع تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ کئی علاقوں میں لوگ اپنے گھر چھوڑ کر دوسری جگہ پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔


سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ریاست میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی ہتھیاروں اور ڈھانچوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کسی بھی پرتشدد سرگرمی کو بروقت روکنے کے لیے سیکورٹی فورسز نے حساس علاقوں میں نگرانی بڑھا دی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور تعاون کریں۔