مالویہ نگر حادثہ: ریاض الدین اور افضل جیسے کئی ’ریئل لائف ہیروز‘ نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے خود کی نہیں کی پرواہ

حادثے کے دوران ہوٹل کے سامنے گدوں کی دکان چلانے والے ریاض الدین اور ان کے بیٹے ارمان سب سے پہلے مدد کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے فوراً اپنی دکان سے درجنوں گدے اور رضائیاں نکال کر ہوٹل کے باہر بچھا دیں۔

<div class="paragraphs"><p>آگ لگنے کے بعد مالویہ نگر واقع ریسٹورینٹ کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے افسران، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

یہ کہانی دہلی کے مالویہ نگر آتشزدگی میں لوگوں کی جان بچانے والے جاں باز ریئل ہیروز کی ہے۔ انہوں نے دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ ’فلرش اسٹے ہوٹل‘ آگ کی لپٹوں میں گھرا ہوا تھا، چاروں طرف دھواں پھیلا تھا اور اندر پھنسے لوگ مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہے تھے۔ حالات اتنے ہولناک تھے کہ آس پاس کھڑے لوگ بھی سہمے ہوئے تھے، لیکن اسی افراتفری کے درمیان کچھ بہادر لوگ آگے آئے۔ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ہوٹل کے اندر داخل ہو کر لوگوں کو باہر نکالا، زخمیوں کی مدد کی اور کئی زندگیاں بچائیں۔

اس اندوہناک حادثے میں 21 لوگوں کی دردناک موت ہو گئی اور کوئی لوگ اب بھی اسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا اگر ریاض الدین، عامر اور محمد وسیم جیسے بہادر لوگو وقت رہتے مدد کے لیے آگے نہ آتے۔ انہوں نے آگ کی لپٹوں کے سامنے بھی انسانیت کا دامن نہیں چھوڑا۔ حادثے کے دوران ہوٹل کے سامنے گدوں کی دکان چلانے والے ریاض الدین منصوری اور ان کے بیٹے ارمان سب سے پہلے مدد کے لیے آگے آئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ کئی لوگ اوپری منزلوں پر پھنسے ہوئے ہیں اور کھڑکیوں سے مدد کے لیے آواز لگا رہے ہیں، تو انہوں نے بلا تاخیر اپنی دکان سے درجنوں گدے اور رضائیاں نکال کر ہوٹل کے باہر بچھا دیں۔ گدوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر انہوں نے ایک عارضی حفاظتی ڈھال تیار کیا تاکہ لوگ اوپر سے کود کر اپنی جان بچا سکیں۔


ارمان کے مطابق لوگوں کی جان بچانے کے دوران انہیں خود بھی چوٹیں آئیں اور ان کی دکان کا تقریباً 2 لاکھ روپے کا سامان نقصان میں چلا گیا۔ ریاض الدین کا کہنا ہے کہ کسی کی جان بچانے کے سامنے یہ نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’’ہندو مسلمان سے اوپر انسانیت ہوتی ہے۔ ہم سب ہندوستانی ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔‘‘

مقامی نوجوان محمد افضل بتاتے ہیں کہ ہوٹل کے اندر حالات بے حد ہولناک تھے۔ دھوئیں کے باعث سانس لینا مشکل ہو رہا تھا، آنکھوں میں شدید جلن تھی اور سیڑھیاں تک گرم ہو چکی تھیں۔ کئی لوگ کمروں کے باہر بے ہوشی کی حالت میں پڑے ملے۔ ایسے میں نوجوانوں نے اپنے منہ پر کپڑا باندھا اور ایک ایک منزل پر جا کر پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکالنا شروع کیا۔ کئی لوگوں کو کندھوں پر اٹھا کر نیچے لایا گیا۔ کچھ لوگ گھبراہٹ میں رو رہے تھے تو کچھ پوری طرح بے ہوش تھے۔


اسرار خان بتاتے ہیں کہ ’’جب ہم نے ہوٹل سے دھواں نکلتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ اندر پھنسے لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اوپر سے لوگ مدد کے لیے آواز لگا رہے تھے۔ ہم چند ساتھی فوراً ہوٹل کے اندر گھس گئے۔ دھوئیں کی وجہ سے سانس لینا مشکل تھا، لیکن لوگوں کی جان بچانا زیادہ ضروری تھا۔ کئی لوگ بے ہوش پڑے تھے، جنہیں کندھوں پر اٹھا کر باہر نکالا گیا۔‘‘ وقار کے مطابق ہوٹل کی اوپری منزلوں پر پھنسے لوگ بری طرح گھبرائے ہوئے تھے۔ کئی لوگ کھڑکیوں سے جھانک کر مدد مانگ رہے تھے۔ ہم نے آس پاس کے گھروں اور دکانوں سے گدے اکٹھے کیے اور نیچے بچھا دیے، تاکہ اگر کوئی کودے تو اس کی جان بچ سکے۔ کچھ لوگوں نے تیسری اور چوتھی منزل سے چھلانگ لگائی، جنہیں ہم سنبھالتے رہے۔

محمد افضل بتاتے ہیں کہ ’’جب ہم اندر پہنچے تو چاروں طرف صرف دھواں ہی دھواں تھا۔ کئی کمروں کے دروازے بند تھے۔ ہم لوگوں کو آواز دے کر باہر نکلنے کا راستہ بتاتے رہے۔ کئی غیر ملکی شہری زبان نہیں سمجھ پا رہے تھے، اس لیے انہیں اشاروں سے باہر آنے کے لیے کہتے رہے۔ باہر لانے کے بعد کئی لوگوں کی حالت بے حد تشویشناک تھی۔‘‘ محمد شعیب خان کہتے ہیں کہ ’’جب کچھ لوگوں کی سانسیں رکتی ہوئی دکھائی دیں تو میں نے فوراً انہیں سی پی آر دینا شروع کیا۔ کئی لوگ پوری طرح بے ہوش تھے۔ ان کے اہل خانہ گھبرائے ہوئے تھے۔ ہم ایک طرف فرسٹ ایڈ دے رہے تھے تو دوسری طرف لوگوں کو ہمت بھی بندھا رہے تھے۔


حادثے کے وقت میکس اسپتال میں ملازم وسیم راجا بھی جائے وقوعہ پر پہنچے۔ اسپتال میں ملنے والی ایمرجنسی ٹریننگ کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ہوٹل کے اندر اور باہر کئی لوگوں کو سی پی آر دیا۔ وسیم نے بتایا کہ آگ جیسی ہنگامی صورتحال میں لوگوں کی جان بچانے کے لیے انہیں خصوصی تربیت دی جاتی ہے اور اسی تربیت کی بنیاد پر انہوں نے زخمیوں کی مدد کی۔ انہوں نے کئی لوگوں کو باہر نکال کر ایمبولینس تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

محمد انیس نے بتایا کہ میں کمرے میں سو رہا تھا کہ میری کرایہ دار نے آگ کے بارے میں بتایا۔ میں نے دیکھا کہ ہوٹل میں آگ لگی ہوئی تھی۔ کھڑکیاں کسی طرح سے توڑیں۔ پھر ہم نے گدے بچھائے، جس پر کچھ لوگوں نے کود کر اپنی جان بچائی۔ توصیف خان نے بتایا کہ میرا گھر پیچھے ہی تھا۔ ہم مدد کے لیے پیچھے سے گئے اور باتھ روم کے راستے اندر داخل ہوئے۔ وہاں ہم نے لوگوں کو اوپر سے ہی نیچے پڑے گدوں پر کودنے میں مدد کی۔


قابل ذکر ہے کہ اس ریسکیو آپریشن میں پولیس اہلکاروں نے بھی غیر معمولی ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ حادثے کے دوران لوگوں کو محفوظ باہر نکالنے کی کوششوں میں مصروف دہلی پولیس کے 10 جوان بھی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں ہیڈ کانسٹیبل کرتار، ہرگیان، پریم چند، جتیندر اور دنیش کے ساتھ ساتھ کانسٹیبل روی رنجن، سندیپ، وکرم، دیپک اور رام پال شامل ہیں۔ یہ جوان آگ کی لپٹوں سے جھلس گئے، لیکن انہوں نے اپنی مہم نہیں روکی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔