ملکارجن کھڑگے نے پھر اٹھایا حد بندی سے متعلق نئی تجاویز کا معاملہ، پی ایم مودی کو لکھا خط
کانگریس صدر کھڑگے نے یاد دلایا کہ حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو 17 اپریل کو لوک سبھا میں ضروری دو تہائی اکثریت کی حمایت نہیں مل سکی تھی اور حکومت کو ’واضح فرق‘ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے نام خط لکھ کر ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ حد بندی سے متعلق نئی تجاویز کو حتمی شکل دینے اور انہیں پارلیمنٹ میں غور کے لیے پیش کرنے سے پہلے آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو تجاویز پر آپس میں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ حکومت کو ایک بار پھر دور رس اثرات والے آئینی ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف کھڑگے نے وزیر اعظم کو لکھے خط میں اس بات کا ذکر کیا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 13 اگست کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے 64 دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ کانگریس صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے سب سے پہلے 11 اپریل 2026 کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر حد بندی سے متعلق کسی بھی آئینی ترمیمی بل کو پیش کرنے سے پہلے آل پارٹی میٹنگ بلانے کی اپیل کی تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد حکومت نے 14 اپریل کی دیر شام بلوں کو عوام کے سامنے پیش کیا اور 16 اپریل کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کر دیا۔
کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو 17 اپریل کو لوک سبھا میں ضروری دو تہائی اکثریت کی حمایت نہیں مل سکی اور حکومت کو ’واضح فرق‘ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے 16 جولائی اور 27 اگست کو بھی وزیر اعظم کو خط لکھ کر آل پارٹی میٹنگ بلانے کا مطالبہ دہرایا تھا۔ کھڑگے نے کہا کہ اب وہ چوتھی بار یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت اپنی نئی تجاویز کو حتمی شکل دینے سے پہلے تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کرے۔
کانگریس صدر نے خط میں لکھا ہے کہ ’’تمام سیاسی پارٹیوں کو اپنی سطح پر، ایک دوسرے کے ساتھ اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے لیے مناسب وقت ملنا چاہیے۔‘‘ انھوں نے حکومت پر پہلے بھی اس معاملے سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے میں عجلت کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ حکومت کو دوبارہ ایسی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ گزشتہ بار کی گئی ایسی کوشش پارلیمنٹ میں ناکام رہی تھی اور حکومت کو اس بار وسیع سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کے بعد ہی آگے بڑھنا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
