رام مندر عطیہ چوری معاملے میں بڑی کارروائی، ملزمین کے گھروں پر پولیس کی چھاپے ماری

اس معاملے میں گرفتار تمام ملزمین رام مندر میں آنے والے عطیات اور نقدی کی گنتی کے کام سے وابستہ تھے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے وہیں سے رقم کی ہیرا پھیری کی۔

<div class="paragraphs"><p>رام مندر، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

اترپردیش کے ایودھیا واقع رام مندر عطیات چوری معاملے میں چوطرفہ ہنگامے کے درمیان پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ اس معاملے کی جانچ  کر رہی ٹیموں نے اتوار کو ایودھیا میں رہنے والے تمام ملزمین کے گھروں پر چھاپے ماری کی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس اپنی جانچ میں تیزی لا رہی ہے تاکہ اس معاملے سے متعلق حقائق سے پوری طرح پردہ اٹھایا جا سکے۔ پولیس حقیقت کو سامنے لانے کے لیے اس معاملے کے ہر پہلو کو گہرائی سے دیکھ رہی ہے۔

اس دوران جانچ ٹیم نے اپنی کارروائی کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ایودھیا میں رہنے والے ملزمین کے گھروں پر کارروائی کی ہے۔ پولیس کی الگ الگ ٹیمیں انکلپ مشرا، لو کش مشرا، مرکزی ملزم رما شنکر یادو عرف ٹنو یادو، منیش یادو، کرونیش پانڈے اور رما شنکر مشرا کے گھر پہنچیں۔ ان سبھی ٹھکانوں پر پولیس باریک بینی سے تلاشی لے رہی ہے تاکہ کیس سے متعلق اہم شواہد اکٹھے کئے جاسکیں۔ تحقیقاتی ٹیمیں گھر کے کونے کونے کی چھان بین کر رہی ہیں۔


وہیں تفتیش کے دوران پولیس مقامی مجسٹریٹ کی موجودگی میں ملزمین کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آس پاس رہنے والے لوگوں سے بھی ان ملزمین کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملزمین کی سرگرمیاں گزشتہ کچھ عرصے میں کیسی تھیں اور کیا معاملے سے متعلق کوئی اہم سراغ مل سکتا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ کی خبر کے مطابق تحقیقات کے دوران پولیس ایودھیا میں اویناش شکلا کے کرائے کے مکان پر بھی پہنچی۔ بتایا گیا ہے کہ اویناش شکلا پرتاپ گڑھ  کا رہنے والا ہے اور اس نے کچھ ماہ قبل ہی یہ کرائے کا مکان خالی کردیا تھا۔ پولیس نے مکان کے آس پاس رہنے والے لوگوں اور نیچے کی دکان چلانے والے دکانداروں کے بیانات بھی ریکارڈ کئے۔ اس معاملے کی گہرائی سے جانچ کر رہی ٹیمیں صرف چوری کے تاروں کو ہی نہیں جوڑ رہی ہیں بلکہ ملزمین کے ذرائع آمدن کی بھی چھان بین کر رہی ہیں۔ جرائم کے ذریعے جو پیسہ حاصل کیا گیا ہے اس کے ذرائع کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔


ملزمین کے پاس موجود املاک کہاں سے آئیں اور ان پاس فنڈ کہا سے آرہا تھا، اس کا بھی پورا ریکارڈ دیکھا جارہا ہے۔ پولیس بینکوں کے کھاتوں اور لین دین کی بھی جانچ کر رہی ہے تاکہ صاف ہو سکے کہ پیسے کو کہاں کہاں بھیجا گیا یا کس کام میں استعمال کیا گیا۔ اس معاملے میں گرفتار تمام ملزمین رام مندر میں آنے والے عطیات اور نقدی کی گنتی کے کام سے وابستہ تھے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے وہیں سے رقم کی ہیرا پھیری کی۔ تفتیشی ٹیموں نے اب تک اس معاملے میں تقریباً 79.85 لاکھ 85 ہزار روپے  برآمد کر لئے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں چوری، مجرمانہ سازش اور انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

یہ بڑی کارروائی اتر پردیش حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی 3 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی ابتدائی رپورٹ کے بعد کی گئی ہے۔ عدالت نے 2 دن پہلے ہی تمام 8 ملزمین کو 29 جون تک جیل بھیج دیا تھا۔ پولیس ان تمام ملزمین کو پیر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرے گی۔ معاملے کے تار جوڑنے اور آگے کی پوچھ گچھ کے لیے پولیس عدالت سے ان سبھی کی حراست مانگے گی تاکہ باقی رقم اور املاک کا بھی پتا لگایا جاسکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔