مہاراشٹر: ذات پر مبنی مردم شماری ناگزیر، او بی سی کے لیے الگ کالم شامل کیا جائے، وجے وڈیٹیوار کا مطالبہ
کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ او بی سی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری میں الگ کالم شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے او بی سی کے لیے فنڈ، ہاسٹل اور سیاسی نمائندگی بڑھانے کا مطالبہ کیا

بھنڈارا: مہاراشٹر اسمبلی میں کانگریس قانون ساز پارٹی کے رہنما وجے وڈیٹیوار نے ذات پر مبنی مردم شماری کو او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) کے حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری میں او بی سی کے لیے الگ کالم شامل کیا جائے تاکہ اس طبقے کی حقیقی آبادی اور اس کے حقوق کا درست تعین ہو سکے۔
سکل او بی سی مہامورچہ کی جانب سے نکالی گئی منڈل یاترا 2026 کے آغاز کے موقع پر بھنڈارا میں خطاب کرتے ہوئے وڈیٹیوار نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے یہ یاترا منڈل کمیشن کی سفارشات کے نفاذ اور او بی سی برادری میں اپنے آئینی حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے نکالی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد او بی سی سماج کو متحد کرنا اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کے لیے منظم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے ذات پر مبنی مردم شماری کا مسئلہ اٹھائے جانے کے بعد مرکزی حکومت نے مردم شماری کرانے کا اعلان کیا، تاہم موجودہ عمل میں او بی سی کے لیے کوئی الگ خانہ موجود نہیں ہے۔ وڈیٹیوار نے کہا کہ حکومت نے بعد میں تنقید کے بعد دعویٰ کیا کہ دوسرے مرحلے میں او بی سی کا کالم شامل کیا جائے گا، لیکن اگر ابتدائی مرحلے میں ہی اس طبقے کا اندراج نہیں ہوگا تو عوام ایسے وعدوں پر کیسے اعتماد کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ او بی سی برادری اپنے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور حکومت کو ذات پر مبنی مردم شماری میں او بی سی کے لیے الگ کالم شامل کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بھندارا میں بڑی تعداد میں عوام کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ او بی سی سماج اپنے حقوق کے لیے متحد ہے۔
وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ یہ تحریک کسی سیاسی عہدے یا جماعت سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی، وزیر یا اقتدار جیسے عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن او بی سی سماج کے حقوق مستقل حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس اجتماع سے کانگریس رہنما یا رکن اسمبلی کی حیثیت سے نہیں بلکہ او بی سی کارکن کے طور پر خطاب کر رہے ہیں۔
ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وڈیٹیوار نے الزام لگایا کہ مختلف برادریوں کے ترقیاتی کارپوریشنوں کو بھاری فنڈ فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ او بی سی کارپوریشن کے لیے صرف 500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقریباً 50 فیصد آبادی او بی سی پر مشتمل ہونے کے باوجود نہ تو طلبہ کے لیے مناسب ہاسٹل موجود ہیں اور نہ ہی ضلع سطح پر مطلوبہ سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے 'مہاجیوتی' ادارے کے لیے کم از کم ایک ہزار کروڑ روپے مختص کرنے اور ہر ضلع و تعلقہ میں او بی سی طلبہ کے لیے ہاسٹل تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
