کتوں کو کھانا کھلانے پر آر ایس ایس اور بی جے پی رہنما آمنے سامنے، مارپیٹ اور توڑ پھوڑ کے بعد مقدمہ درج
اندور میں آوارہ کتوں کو کھانا کھلانے کے معاملے پر آر ایس ایس رہنما چیتن پوار اور بی جے پی رہنما ویرندر شیڈگے کے درمیان تنازع بڑھ کر مارپیٹ، توڑ پھوڑ اور تھانے کے گھیراؤ تک پہنچ گیا

مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں آوارہ کتوں کو کھانا کھلانے کے معاملے پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ رہنما چیتن پوار اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما ویرندر شیڈگے کے درمیان پیدا ہونے والا تنازعہ سیاسی اور تنظیمی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ‘آئی اے این ایس‘ کے مطابق، معاملہ اس قدر بڑھ گیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مارپیٹ، توڑ پھوڑ اور تھانے کے گھیراؤ کی نوبت آ گئی، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے جانچ شروع کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چیتن پوار ویرندر شیڈگے کے گھر کے باہر آوارہ کتوں کو کھانا کھلا رہے تھے۔ اسی دوران ویرندر شیڈگے نے اپنے گھر کے سامنے کتوں کو کھانا ڈالنے پر اعتراض کیا۔ اس بات پر دونوں کے درمیان پہلے تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے شدید تنازع میں تبدیل ہو گئی۔
چیتن پوار کا الزام ہے کہ بحث کے دوران ویرندر شیڈگے نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور انہیں زد و کوب کیا۔ واقعے کے بعد وہ شکایت درج کرانے کے لیے تھانے پہنچے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث فوری کارروائی نہیں کی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے پورے معاملے سے آر ایس ایس کے اعلیٰ ذمہ داران کو آگاہ کیا۔
معاملہ تنظیمی سطح تک پہنچتے ہی بڑی تعداد میں آر ایس ایس کارکن متحرک ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ مشتعل کارکنوں نے ویرندر شیڈگے کے دفتر اور رہائش گاہ کے باہر پہنچ کر توڑ پھوڑ کی۔ اس کے بعد انہوں نے متعلقہ تھانے کا گھیراؤ کیا اور پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد پولیس نے چیتن پوار کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا۔ دوسری جانب ویرندر شیڈگے کا نام اس سے قبل بھی مختلف تنازعات میں سامنے آ چکا ہے۔ حال ہی میں ان کا کچھ پولیس اہلکاروں کے ساتھ بھی تنازع خبروں میں رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق ان کی متنازع سرگرمیوں اور تنظیمی شبیہ کو نقصان پہنچانے والے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی کے شہری صدر سمیت مشرا نے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس سلسلے میں انہیں چھ برس کے لیے پارٹی سے خارج کرنے سے متعلق ایک مکتوب بھی جاری کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مارپیٹ، توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے۔ تمام حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
