مدھیہ پردیش: عمارت تعمیر نہیں ہوئی، پھر بھی ہوتی رہیں تقرریاں اور تبادلے، سرخیوں میں اندورکا ’گھوسٹ ہاسپٹل‘

ڈاکٹر مادھو ہاسانی نے کہا کہ ’’کھجرانہ سول اسپتال کے لیے ہمیں زمین الاٹ کر دی گئی ہے، لیکن اب تک ہمیں زمین کا قبضہ نہیں ملا ہے جس کی وجہ سے یہ زمین تعمیراتی ایجنسی کے سپرد نہیں کی جا سکی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

مدھیہ پردیش کے اندور میں گھنی آبادی والے کھجرانہ علاقے میں مجوزہ 100 بیڈ والے سول اسپتال کی عمارت سرکاری منظوری کے 6 سال بعد بھی وجود میں نہیں آ سکی ہے، لیکن اسپتال کے لیے منظور شدہ 87 عہدوں پر ملازمین کی تقرریاں اور تبادلے ہوتے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کئی لوگ محض کاغذوں پر جاری اس منصوبے کو ’گھوسٹ ہاسپٹل‘ جیسے ناموں سے موسوم کرتے ہوئے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ جب اسپتال کی عمارت ہی وجود میں نہیں ہے تو اس کے نام پر تبادلے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں؟

افسران نے پیر کو بتایا کہ کھجرانہ اور آس پاس کے علاقوں میں تقریباً 5 لاکھ کی آبادی کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرانے کے لیے 100 بیڈ والے نئے سول اسپتال کا منصوبہ 2019 میں شروع کیا گیا تھا اور 2020 میں اس کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ منظوری ملتے ہی ڈاکٹروں، نرسوں، لیب ٹیکنیشنز اور فارماسسٹ وغیرہ کے مجموعی طور پر 87 عہدے طے شدہ سرکاری طریقۂ کار کے تحت اسپتال کے لیے منظور کیے گئے تھے۔


چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (سی ایم ایچ او) ڈاکٹر مادھو ہاسانی نے کہا کہ  ’’کھجرانہ سول اسپتال کے لیے ہمیں زمین الاٹ کر دی گئی ہے، لیکن اب تک ہمیں زمین کا قبضہ نہیں ملا ہے جس کی وجہ سے یہ زمین تعمیراتی ایجنسی کے سپرد نہیں کی جا سکی ہے۔‘‘ ان کے مطابق اسپتال کی تعمیر وقت پر نہیں ہو سکی، اس لیے اسپتال کے لیے منظور شدہ اسٹاف کو شہر کے 85 ’مکھیہ منتری سنجیونی کلینکس‘ اور دیگر طبی اداروں میں خدمات انجام دینے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کھجرانہ، اندور کے مسلم اکثریتی علاقوں میں شامل ہے۔ کھجرانہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کھجرانہ میں بڑے سرکاری اسپتال کی کمی ہے اور مریضوں کو علاج کے لیے مہاراجہ یشونت راؤ اسپتال (ایم وائی ایچ) اور دیگر سرکاری اسپتالوں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ مقامی رہائشی تبریز منصوری نے بتایا کہ کھجرانہ میں سول اسپتال کے لیے الاٹ کی گئی تقریباً 5 ایکڑ زمین پر فی الحال صرف ملبہ اور کچرا دکھائی دیتا ہے۔


تبریز منصوری نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا اسپتال ہے جس کے بارے میں کاغذات میں تو سب کچھ دکھائی دیتا ہے، لیکن زمین پر کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران اپنے قریبی لوگوں کو کھویا ہے۔ اس لیے ہم جانتے ہیں کہ ایک اسپتال کی کیا قیمت ہوتی ہے۔‘‘ محکمہ صحت کے افسران کا کہنا ہے کہ کھجرانہ سول اسپتال کا منصوبہ منسوخ نہیں ہوا ہے اور زمین کا قبضہ ملنے کے بعد تعمیراتی کام شروع کرنے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔