ایل پی جی بحران! ایک طرف حکومت کی تسلی، دوسری طرف عوام میں افراتفری، انتظامیہ کی چھاپے ماری شروع
کئی مقامات پر ریسٹورنٹ بند ہونے اور ایل پی جی ذخیرہ کرنے کی اطلاعات ہیں وہیںمرکزی حکومت نے کہا ہے کہ گھروں میں ایل پی جی کی بلا تعطل سپلائی کو یقینی بنایا گیا ہے اورصارفین کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

مغربی ایشیا میں ایران امریکہ جنگ کے درمیان ملک کے کئی حصوں میں گیس کا بحران جاری ہے۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے لگاتار گیس کی وافر مقدار موجود ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے مگر حالات کچھ اور ہی گواہی دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں دہلی حکومت نے نئی پالیسی جاری کی ہے جب کہ اتر پردیش میں چھاپے ماری کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ وہیں چھتیس گڑھ میں رسوئی گیس (ایل پی جی) کی قلت کے حوالے سے مچی افراتفری پر قابو پانے کے لیے محکمہ خوراک ورسد اور ضلع انتظامیہ کی ٹیمیں چھاگپے ماری کررہی ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں میں جمعہ کو سلینڈر کے لیے افراتفری کا ماحول رہا۔ کئی ریاستوں میں لوگ لمبی لمبی لائنبوں میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے نظر آئے تھے حالانکہ مرکزی حکومت نے کئی بار کہا ہے کہ ملک میں ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کئی مقامات پر ریسٹورنٹ بند ہونے اور ایل پی جی ذخیرہ کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ وہیں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ گھروں میں ایل پی جی کی بلا تعطل سپلائی کو یقینی بنایا گیا ہے اور صارفین کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
خبروں کے مطابق یوپی، بہار، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان جیسے صوبوں میں انتظامیہ کی جانب سے کارروائی شروع ہوگئی ہے۔ ’اے پی بی نیوز‘ کے مطابق چھتیس گڑھ میں محکمہ خوراک اور ضلع انتظامیہ کی ٹیموں نے ریاست بھر میں 102 مقامات پر چھاپے مارے اور 741 گیس سلنڈر ضبط کیے ہیں۔ حکام کے مطابق ریاستی حکومت نے واضح کیا کہ ریاست کے پاس گھریلو ایل پی جی، پیٹرول اور ڈیزل کا کافی ذخیرہ ہے اور ان کی دستیابی اور تقسیم کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔
اسی دوران بہار کے نوادہ میں گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی مبینہ قلت پر افراتفری کے بعد ضلع انتظامیہ حرکت میں آگیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ روی پرکاش نے بھارت گیس، ایچ پی گیس اور انڈین سمیت تمام گیس ایجنسیوں کے آپریٹرز کے ساتھ کلکٹریٹ میں میٹنگ کی اور گڑبڑیوں، ذخیرہ اندوزی یا اوور چارجنگ کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا۔ ایجنسیوں نے انتظامیہ کو بتایا کہ گیس کی کوئی قلت نہیں ہے اور وافر ذخیرہ موجود ہے۔ انتظامیہ نے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔
راجستھان میں ایک طرف ضلعی انتظامیہ گھریلو گیس سلنڈروں کی قلت کی تردید کر رہی ہے اورعوام سے افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کررہی ہے لیکن زمینی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ یہاں کے بھیلواڑہ ضلع کے منڈل سب ڈویژن آفس میں ایک گیس صارف خالی سلنڈر لے کر پہنچ گیا اور سب ڈویژن آفیسر سے سلنڈر دلوانے کی فریاد کی۔ صارف نے بتایا کہ اس کی والدہ کا حال ہی میں انتقال ہوگیا ہے اور گھر میں مہمان ہیں لیکن اس کے پاس چائے بنانے کے لیے بھی گیس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی گیس ایجنسی کے دفتر کا دورہ کر چکے ہیں لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔